بریکنگ نیوز: 300 ارب تو کیا سندھ حکومت کو 300 روپے بھی نہیں دیں گے ۔۔۔!!! سندھ میں ترقیاتی منصوبوں پر کیسے کام ہو گا؟ حکومت نے دبنگ اعلان کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو 300 ارب تو کیا 300 روپے بھی نہیں دیں گے۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ دل بڑا کر کے آگے بڑھ رہے ہیں اور سندھ کےعوام کی مدد


کر رہے ہیں، سندھ حکومت کی معاونت کے باوجود تنقید کا سامنا ہے، سندھ کے مسائل حل ہوجائیں تو پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہوجائے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خود مختاری کے باوجود کام کرا رہے ہیں، سندھ حکومت بتائے کہ انہوں نے 12 سال میں کیا کام کرایا؟ سندھ میں مسائل کاحل ممکن ہے لیکن مسئلہ نیت کا ہے، سارا کریڈٹ سندھ حکومت لے لیکن کام کرائے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی سبکدوشی کے بعد وفاقی حکومت نے انعام غنی کو صوبے کی پولیس کا نیا سربراہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کیلئے سمری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ارسال کردی گئی، وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔شعیب دستگیر کی رخصتی کے بعد آئی جی پنجاب کے لیے انعام غنی، اے ڈی خواجہ اور محسن بٹ کے نام زیر غور تھے جب کہ کلیم امام نئے آئی جی پنجاب کے لیے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے لیکن قرعہ انعام غنی کے نام کا نکل آیا۔واضح رہے کہ گزشتہ دوسال کے دوران پنجاب میں 5آئی جیز تبدیل کیے جاچکے ہیں، جس کے مطابق کلیم امام سال 2018ء میں تین ماہ کے لیے آئی جی پنجاب رہ چکے ہیں۔امجد سلیمی 6 ماہ تک آئی جی پنجاب رہے، گزشتہ کئی روز سے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے درمیان شدید اختلافات پائے جا رہے تھے۔اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب سی سی پی او نے افسران کو آئی جی کے حکم سے پہلے تمام معاملات اپنے علم میں لانے کی ہدایت کی جس پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر بھڑک اٹھے، انہوں نے سی سی پی او کی معذرت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔