مخالفین کو پھنسانے کیلئے کا ڈرامہ : دیپالپور میں خاتون وکیل کے اغوا کے معاملے کا ڈراپ سین

دیپالپور (ویب ڈیسک) دیپالپور میں خاتون وکیل کے اغوا کے معاملے کا ڈراپ سین، خاتون ارشاد نسرین نے خود اغوا کا ڈرامہ رچایا، تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق دیپالپور کی خاتون وکیل ارشاد نسرین کے اغوا کیس میں پیش رفت ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہےکہ

پنجاب بار کونسل کی 6 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔رپورٹ میں خاتون وکیل کے اغوا کو جھوٹا واقعہ قرار دے دیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون وکیل ارشاد نسرین نے مخالفین کو پھنسانے کیلئے خود ہی اپنے اغوا کا ڈرامہ رچایا اور بعد میں مقدمہ بھی درج کروا دیا۔ پولیس نے خاتون وکیل کی جانب سے رچائے گئے ڈرامے میں ملوث سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل خاتون وکیل نے اپنے سابقہ شوہر پر اغوا کا الزام عائد کیا تھا۔عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں خاتون وکیل نے کہا تھا کہ سابقہ شوہر میاں اکمل وٹو ایڈووکیٹ اُس کے کلرک شیخ اویس اور وکیل کے بھائی نذرفرید وٹو اس کے اغواہ میں ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خاتون وکیل کے اغوا کا نوٹس لیا تھا۔ وزیراعظم نے خاتون وکیل کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔بتایا گیا تھا کہ حویلی لکھا کی مقامی رہائشی خاتون وکیل کو اغوا کر لیا گیا تھا۔خاتون وکیل کے اغواء کے سات روز بعد نامعلوم اغواء کارہاتھ منہ باندھ کر پھینک کرفرار ہو گئے تھے۔خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ متاثرہ خاتون ایڈوکیٹ نسرین ارشاد چھ بچوں کی ماں ہے ،جس نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دیپالپور کچہری میں ایک وکیل کے دفتر سے اغوا کیا گیا تھا۔ تاہم اب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ تمام معاملہ جھوٹا نکلا ہے۔