عاصم سلیم باجوہ کو نیب سے مستفید ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ ۔۔۔ صفائی دینے کے باوجود ناقابل یقین آزواز بلند کرد ی گئی

لاہور(ویب ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ اب سویلین ہیں، نیب سے مستفید ہونا پڑسکتا ہے، ہماری طرح عاصم باجوہ پر بھی نیب قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، احتساب کے ساتھ اس بات کا حامی ہوں جب تک کسی پر جرم ثابت نہیں ہوتا ، وہ بے گناہ ہوتا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نوازشریف کی واپسی اور علاج سے متعلق ہماری پچھلے دو دنوں میں مشاورت ہوئی ہے کہ میاں صاحب علاج کو ترجیح دیں اور علاج مکمل کروا کے واپس آئیں۔انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات اور ان ہاؤس تبدیلی کے بارے میں 20 ستمبر کو فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کے استعفیٰ دینے کا معاملہ حکومت کا ہے، آپس میں طے کرلیں۔لیکن بات یہ ہے کہ عاصم باجوہ بھی ہماری طرح ہیں، نیب سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ احتساب کی بات یہ ہے کہ میں اس بات کا حامی ہوں جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا ، تب تک بے گناہ ہوتے ہیں۔یہ انصاف کے تقاضے ہیں، جو ملک میں نہیں ہیں۔عاصم باجوہ بھی اب سویلین ہیں، ان پر نیب قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، جس طرح ہم سب نیب سے مستفید ہو رہے ہیں، ان کو بھی ہماری طرح نیب سے مستفید ہونا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ ایک ہی ہے، ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ ہے، ملک آئین وقانون کے مطابق چلے، یہ بیانیہ ہے، مجھے کوئی پاکستانی نہیں ملا جو اس بیانیئے سے اختلاف کرے۔اس سے قبل مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزراء بیگم کلثوم نواز کی صحت کے بارے غیرذمہ درانہ بیانات دیتے تھے، بعد میں پھر شرمندہ بھی نہیں ہوئے، اسی طرح نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، پاکستان مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ نوازشریف علاج مکمل کروا کے وطن واپس آئیں، نواشریف مسلم لیگ ن ، عوام اور ملک کا اثاثہ ہیں، ان کی صحت پر سیاست یا کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا۔جب ان کے معالجین فیصلہ کریں گے کہ وہ واپس جانے کیلئے فٹ ہیں، تو پھر وہ وطن واپس آجائیں گے۔ جب نوازشریف کو علاج کی اجازت دی گئی تو پوری دنیا کورونا کی لپیٹ میں آگئی، جس سے نوازشریف ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر مریض متاثر ہوا ہے۔ ہسپتال بند رہے علاج کی سہولتیں معطل رہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ نوازشریف کی صحت اور معالجین کے معائنے کی روشنی میں عدلیہ بھی ملحوظ خاطر رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف وہ لیڈر ہے جو قانون کی عملدراری کیلئے بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ ان کے بارے میں ایسی بحث چھیڑنا انسانیت کی توہین ہے۔ نوازشریف کے معالجین جب فیصلہ کریں گے کہ وہ واپس جاسکتے ہیں نواز شریف واپس آجائیں گے، باقی ہماری لیگل ٹیم قانونی پہلوؤں کو دیکھے گی۔