عمران خان امت مسلمہ کا واحد وارث،پاکستان سعودی حکومت کے ساتھ مل کر کیا بڑا کرنے جا رہے ہیں ؟ تہلکہ خیز تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا دوست رہے گا، ہم چاہتے ہیں اوآئی سی کشمیر پر اپنا کردار ادا کرے، اسرائیل کو امریکی پشت پناہی حاصل ہے، اسرائیل کوکچھ ممالک تسلیم بھی کرلیں تو بھی فلسطین کا ایشو ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے غیرملکی ٹی وی چینل

الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی حکومت پر اتنی تنقید نہیں ہوئی، میرے اور میرے وزراء کیخلاف کھلا پروپیگنڈا کیا گیا۔ان کی حکومت میں کرپشن کا کوئی اسکینڈل نہیں ہے۔ایسا برطانیہ میں ہوتا تو کروڑوں ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ ہمارے شاندار تعلقات ہیں، فوج ہماری پالیسی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا دوست رہے گا۔ہم چاہتے ہیں اوآئی سی کشمیر پر اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکی پشت پناہی کی وجہ سے مضبوط ہے ، کچھ ممالک اگر اسرائیل کو تسلیم بھی کرلیں تب بھی فلسطین کا ایشو ختم نہیں ہوگا،فلسطین کے معاملے پر منصفانہ تصفیہ اسرائیل کے فائدے میں ہے۔بدقسمتی سے دنیا کے ممالک بھارت کو ایک منڈی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کو کسی کیمپ کا حصہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہم ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کیوں نہیں رکھ سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ منسلک ہے جو دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔انہوں نے 62 ارب ڈالر کی لاگت کے اقتصادی راہداری منصوبہ کی شرائط میں ترمیم کیلئے چین کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات اس وقت پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان چین

کی ترقی اور لوگوں کو غربت سے نکالنے کے تجربات سے استفادہ کرے گا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چند سال قبل کی نسبت اس وقت امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہترین ہیں، افغانستان میں ہم امن کے شراکت دار ہیں۔حکومت افغانستان اور طالبان کے درمیان مستقبل میں اقتدار میں شراکت کے معاہدہ کی حمایت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان جو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہیں وہ ہمارے لئے بھی اچھا ہو گا، افغان امن میں افغانستان کے بعد سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 19 سالہ جنگ اور قتل و غارت کے بعد اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب اچانک ملکر رہنا شروع کر دیں گے تو میرے خیال میں یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے، یہ دراصل ایک معجزہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے مسئلہ کے فوجی کے بجائے سیاسی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی سے فائدہ اٹھانے والے عناصر بالخصوص بھارت افغانستان میں امن اور استحکام نہیں چاہتا۔بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان

مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر ہے، یہ صورتحال بھارت کے ذمہ دار شہریوں کیلئے بھی پریشان کن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض ممالک اپنے کاروباری مفادات کی وجہ سے بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔کشمیر کے مسئلہ کے حل میں او آئی سی کے وسیع کردار کے مطالبہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس حوالے سے او آئی سی کے فعال کردار کے خواہشمند ہیں، سعودی عرب پاکستان کا ہمیشہ دوست رہے گا۔ جب وزیراعظم عمران خان سے فوج کے ساتھ ان کی حکومت کے تعلقات کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومتی پالیسیوں کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے، دونوں مکمل تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جمہوری حکومت کی پالیسیاں خواہ بھارت کے حوالے سے ہوں یا افغانستان کے پر امن حل کے حوالے سے ہوں، فوج ان پالیسیوں کے ساتھ ہے، ہر جگہ پر فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ماضی کی حکومتوں میں فوج کے ساتھ تعلقات میں آسانیاں نہیں تھیں تاہم ہمارے شاندار تعلقات ہیں اور میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ یہ انتہائی بہترین تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے دو سالوں میں جو سب سے بڑی تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی ایلیٹ کلاس پر ہاتھ ڈالا گیا، ہمارے اور پہلے والے

پاکستان میں فرق یہ ہے کہ ہماری پالیسیوں کا مرکز صحت، تعلیم اور بہترین انصاف کی فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار غریب کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان کیا گیا اور آئندہ سال سے یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم راستہ بدل رہے ہیں تاکہ پاکستان ترقی کرے اور ابھرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو بڑے خسارے اندرونی و بیرونی کے علاوہ توانائی کے شعبہ میں سنجیدہ مسائل ورثہ میں ملے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک فوری طور پر اصلاحات پر عملدرآمد نہیں کر سکتا، یہ ایک جدوجہد ہے، معیشت کی تبدیلی اور اصلاحات کا عمل راتوں رات کرنے والی چیز نہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ پاکستان درست راستے پر گامزن ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مراعاتی ڈھانچہ کا ذہن تبدیل کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح بدعنوانی کو کنٹرول کرنا تھا اور اس وقت ملک میں کرپشن کا کوئی میگا کیس نہیں ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار طاقتور جو اپنے اختیار کا غلط استعمال کر کے پیسے بناتے تھے انہیں احتساب کے دائرے میں لایا گیا۔تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ نچلی سطح پر کرپشن موجود ہے اور اس کے خاتمے کے لئے جدوجہد اور کئی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کووڈ 19 وباء میں کمی میں کامیابی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈائون کی بجائے سمارٹ لاک ڈائون

کا مشکل اور بہتر فیصلے کی وجہ سے ان کیسز میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی پہلوئوں کی بنیاد پر غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے تحفظ کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے اگر یہ نہ اٹھائے جاتے تو غریب مر جاتے۔میڈیا کی آزادی کے حوالے سے انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان کی حکومت واحد حکومت ہے جسے میڈیا کی جانب سے کھلی اور مضبوط تنقید کا سامنا ہے اور کہا کہ یہ کام پراپیگنڈا کے طور پر کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے حکومت اور وزراء اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں نہ کہ میڈیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم کے خلاف کوئی جعلی خبر شائع ہوتی ہے تو کون اس خبر کو شائع کرنے والے کو عدالت میں لے جا سکتا ہے کیا یہ دھمکانا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 20 سال انگلینڈ میں گزارے، وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس قسم کا واقعہ برطانوی وزیراعظم کے ساتھ پیش آتا تو میڈیا کو لاکھوں ادا کرنے پڑتے۔ فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینیوں پر مسلط کیا جانے والا کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ قابل قبول نہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان حالیہ بڑھتے ہوئے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کچھ ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں تو اس سے مسئلہ ختم نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل یقینی بنانا اسرائیل کے مفاد میں ہے۔