عثمان بزدار عمران خان یا بشرا بی بی کے زیادہ لاڈلے۔۔۔!!!پنجاب بیوروکریسی کے تقریباً ہر ہی افسر سے ذاتی طورپر واقف ، بائیو ڈیٹا بھی زبانی یاد لیکن کیسے ؟ سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے وہ باتیں بتا دیں جس کے بارے میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سادگی کے قصے عام ہیں لیکن اب سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے ان سے ہونیوالی ملاقات کا احوال بیان کیا ہے جس دوران انکشاف ہوا ہے کہ وہ تقریباً ہر ہی افسر سے اچھی طرح واقف ہیں، اپنی ملاقات کا بقیہ احوال بتاتے ہوئے روزنامہ جنگ میں ارشاد بھٹی نے

لکھا کہ “بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات ہورہی تھی، سائیں بزدار کی ، گپ شپ کے دوران ایک موقع پر سائیں نے کہا، پنجاب بیوروکریسی میں کسی افسر کا نام لیں، میں نے ایک بیوروکریٹ کا نام لیا، انہوں نے اس افسر کی پہلی پوسٹنگ سے موجودہ پوسٹنگ تک سب کچھ بتا دیا، میں نے ایک اور افسر کا نام لیا،انہوں نے بولنا شروع کیا، اسکی پہلی پوسٹنگ وہاں تھی، اس کے بعد یہ وہاں آیا، وہاں سے وہاں گیا۔مال مقدمہ اور ڈی جی نیب کی طلبی کیس،احتساب عدالت نمبر 5کے پراسیکیوٹر وراث علی جنجوعہ کو تبدیل کردیا گیاوہاں سے وہاں اور وہاں سے وہاں، اس پر فلاں الزام لگا ، اس میں یہ خامیاں ،یہ خوبیاں، میں نے پوچھا، آپ کو یہ سب کیسے حفظ ، بولے ،میرے والد ضیا ء مجلس شوریٰ کے رکن ،ایم پی اے بھی رہے، دومرتبہ میں خود تحصیل ناظم رہا، علاقے کے کام ڈیرہ غازی خان، لاہور سے کروانا میرے ذمہ تھا ، میں کاموں کی فائلیں بناتا، افسروں سے ملنے کا وقت لیتا ، لاہور آکران سے ملتا ،اسی ملنے ملانے میں مجھے پتا چلتا گیا کہ کون ساافسر کہاں سے آیا۔کون کہاں چلا گیا، کس سے کیسے کام نکلوانا، یہی وجہ مجھے سب افسروں کا بائیو ڈیٹا یاد ، ایک موقع پر میں نے پوچھا، سائیں آپ اتنے ہی بھولے ہیں، جتنے دکھائی دیتے ہیں ،قہقہہ مار کر بولے، آپ کا کیا خیال ہے ،میں نے کہا ، مجھے تو آپ بہت’ کایاں‘ لگتے ہیں ،ہنس کر کہا، آپ ٹھیک سمجھے”۔اںہوں نے اخبار میں مزید لکھا کہ ” باتوں باتوں میں ،میں نے پوچھا، آپ کے خیال میں عمران خان کو آپکی کیا خوبی پسند ہے ،کہا ،یہ تو آپ خان صاحب سے پوچھیں ، میں نے کہا، اچھا یہ بتائیں ،آپ کو عمر ان خان کی کیا خوبی سب سے زیادہ پسند، کہنے لگے ،ان کی غریبوں سے محبت،میں نے کہا ، یہ تو ان ڈائریکٹ آپ اپنی ہی بات کر رہے ہیں ، ہنس کر کہا، یہی سمجھ لیں، میں نے کہا، ویسے اب تو آپ غریب نہیں رہے ، بولے ،کیوں، کیا میری لاٹری نکل آئی ہے، میں نے کہا۔سائیں آپکی نکلی تو لاٹری ہی ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ آ پ نے لاٹری کا ٹکٹ بھی نہیں خریدا تھا، اس پر بہت ہنسے ، میرے اس سوال پر کہ سنا ہے آپ میٹنگوں میں زیادہ تر خاموش رہتے ہیں ،بس شروع میں ویلکم اور آخر پر تھینک یو کہتے ہیں، فائل ورک میں بھی ماٹھے ہی ہیں ۔ان کا جواب تھا، کچھ میں کم گوہوں اور کچھ جھوٹ بہت پھیلایا گیا ہے، میٹنگ میں جہاں مجھے بولنا ہوتا ہے وہاں میں بولتا ہوں اور فائل ورک بھی ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، میر ا سوال تھا، سناہے کہ احسن جمیل گجر اور فرح صاحبہ کا پنجاب کے معاملات میں کافی عمل دخل ہے، جواب دیا، بالکل جھوٹ، میری دونوں سے آخری ملاقات ڈیڑھ پونے دوسال پہلے سپریم کورٹ میں ہوئی تھی”۔