حکومت نے یوای ٹی انتظامی بے ضابطگیوں کیخلاف بڑ ا قدم اٹھا لیا

لاہور(ویب ڈیسک) یو ای ٹی ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی انتظامی بےضابطگیوں کیخلاف وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے گورنر پنجاب اور سنڈیکیٹ کے ممبران کو بھی وائٹ پیپر کی کاپی ارسال کر دی۔تفصیلات کے مطابق یو ای ٹی ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی انتظامی بےضابطگیوں کیخلاف وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے ،وائٹ پیپر میں

کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی امور چلانے کیلئے یو ای ٹی ایکٹ 1974ء کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے، ہر مہینے سنڈیکیٹ کا اجلاس کرنے کے برعکس سال میں صرف چار اجلاس منعقدہ کرنا ایکٹ کی خلاف ورزی ہے،سنڈیکیٹ میں ممبران کی مکمل نمائندگی نہ ہونا، ایکٹ کی شق 24 کی خلاف ورزی ہے،ایکٹ کے تحت وائس چانسلر یو ای ٹی کی قائم کردہ کمیٹیاں سنڈیکیٹ کا متبادل نہیں ہیں۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ سنڈیکیٹ اجلاس میں ممبران کی غیرحاضری کاٹھوس جوازفراہم نہیں کیاجاتا،ایکٹ کے مطابق سنڈیکیٹ کے فعال نہ ہونے کے باعث ٹیچنگ، ریسرچ اور انتظامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے،یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق ایک سال میں سنڈیکیٹ کے 10 اجلاس منعقد کرنا لازمی ہے ۔ یو ای ٹی ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن نے گورنر پنجاب اور سنڈیکیٹ کے ممبران کو وائٹ پیپر ارسال کر دیا ہے۔دوسری طرف صدر ٹی ایس اے ڈاکٹر فہیم اعوان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق ایک سال میں سنڈیکیٹ کے 10 اجلاس منعقد کرنا لازمی ہے، ایکٹ من و عن نافذ نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی دیوالیہ ہو گئی ہے،ٹی ایس اے یونیورسٹی ایکٹ کا مکمل نفاذ چاہتی ہے۔