نیب کے زیر حراست ملزمان کے قبضے سے لی گئی گاڑیاں کہاں اور کس کام میں استعمال کی جا رہی ہیں ؟ جان کر ہر کسی کے لیے یقین کرنا مشکل

لاہور(ویب ڈیسک) نیب کے زیر حراست ملزمان کے قبضے سے لی گئی گاڑی نیب افسران کے ذاتی استعمال میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔درخواست پر احتساب عدالت نے ڈی جی نیب شہزاد سلیم اور انچارج ریکوری ڈسبرسمنٹ مینجمنٹ سیل کو 25 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔عدالت نے نیب تفتیشی افسر کو بھی ریکارڈ

سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کرلیاہے ۔ احتساب عدالت کےجج امجد نذیر چودھری نے ڈی جی نیب کی طلبی کا عبوری تحریری حکم جاری کر دیا۔ نیب نے اپنے تحریری جواب میں زیر قبضہ گاڑی منجمد کرنے کا ذکر ہی نہیں کیا، عبوری تحریری حکم ،نیب کے جواب میں زیر قبضہ گاڑی عدالتی حکم پر منجمد کرنے کے حکم کا بھی ذکر نہیں کیا گیا، ریفرنس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب وحید احمد چودھری نے جان بوجھ کر عدالت سے حقائق چھپائے، فیصل بنک کے وکیل شیخ عمران محمد نعیم کی جانب سے عدالت میں گاڑی سپرداری کی متفرق درخواست دائر کی گئی ۔درخواست میں نیب کی جانب سے ملزمان کے قبضے سے لی گئی گاڑی واپس لینے کی استدعا کی گئی ،گرفتار ملزمان کے قبضے سے لی گئی گاڑی بنک سے لیز پر حاصل کی گئی،قبضے میں لی گئی گاڑی نیب کے افسران کے ذاتی استعمال میں ہے، بنک کے وکیل نے گاڑی کی ٹریکنگ رپورٹ عدالت میں پیش کی، ٹریکنگ رپورٹ میں ملزمان سے قبضے میں لی گئی گاڑی کی دوسرے شہروں میں نشاندہی ہوئی ہے۔