خلیل الرحمٰن قمر کا شو چلانا مہنگا پڑ گیا ۔۔ نجی ٹی وی چینل کو بڑا جرمانہ

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے معروف مصنف اور ڈائریکٹر خلیل الرحمٰن کے نازیبا ریمارکس کو ایک پروگرام میں نشر کرنے پر نیو نیوز کو قانون اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔علاوہ ازیں پیمرا نے چینل کو خبردار کیا اور کہا

کہ وہ صف کے حوالے سے ضابطہ اخلاق اور قانون سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کرے۔خیال رہے کہ گزشتہ سال 3 مارچ کو نیو نیوز کے ایک ٹاک شو میں 8 مارچ کو ہونے والے عورت مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے خواتین کے حقوق کی ایکٹویسٹ ماروی سرمد کے لیے مبینہ طور پر ‘نازیبا اور غیر اخلاقی الفاظ’ کا استعمال کیا تھا، جو مذکورہ پروگرام میں ان کے ہمراہ مہمان بھی تھیں۔خلیل الرحمٰن قمر نے ماروی سرمد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اور عورت مارچ کے نعرے (میرا جسم میری مرضی) کو فحش اور باطل قرار دیا تھا۔بعد ازاں ہائی کورٹ کے متعدد وکلا کی جانب سے نیو چینل کے پروگرام ‘آج عائشہ احتشام کے ساتھ’ کے خلاف پیمرا کی شکایات سے متعلق کونسل میں درخواستیں جمع کروائی تھیں۔مذکورہ تنیوں شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ پروگرام کے دوران خلیل الرحمٰن قمر نے ماروی سرمد کی جانب سے لگائے گئے نعرے میرا جسم میری مرضی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جو غیر اخلاقی اور پیمرا کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔بعد ازاں معاملے پر کونسل نے 9 جولائی کو اجلاس منعقد کیا جس میں شکایت کنندہ نے خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے کہے گئے 3 غیر اخلاقی ریمارکس کی نشاندہی کی اور کونسل کو بتایا کہ یہ فحش اور ‘مخصوص صنف کو نشانہ بنانے’ کے مترادف ہیں اور یہ نفرت انگیز تقریر میں شمار ہوتا ہے۔ڈان ڈاٹ کام کو حاصل ہونے والی پیمرا حکم نامے کی کاپی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ چینل کی جانب سے پیمرا کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے جبکہ ٹی وی چینل کا ایڈیٹوریل بورڈ، اگر کوئی ہے، تو وہ اپنا کام انجام دینے میں ناکام رہا ہے۔دوسری جانب چینل کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ نیو نیوز نے اس کے فوری بعد معذرت نشر کی اور دوبارہ کسی پروگرام میں خلیل الرحمٰن کو مدعو نہیں کیا۔دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پیمرا کی کونسل نے مشاہدہ کیا کہ خلیل الرحمٰن کے ریمارکس بد سلوکی اور صنفی امتیاز سے متعلق تھے اور چینل نے انہیں نشر کرکے آئین، پیمرا آرڈیننس 2002 اور الیکٹرونک میڈیا ضابطہ اخلاق 2015 کی خلاف ورزی کی۔پیمرا کے حکام نامے میں کہا گیا کہ چینل فوری طور پر مؤثر تاخیر کا طریقہ کار اپنانے میں بھی ناکام رہا، اس کے علاوہ ‘پروگرام کی میزبان بھی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہیں’۔کونسل کی جانب سے چینل پر 10 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز پیش کی گئی تھی

جبکہ مستقبل میں ایسی ہی صورت حال کے رونما ہونے کے حوالے سے بھی خبردار کیا گیا تھا۔پیمرا حکم نامے کے مطابق بعد ازاں معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے اتھارٹی نے چینل کو متنبہ کرنے کے ساتھ 5 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔معاملے کا پس منظرواضح رہے کہ ڈراما مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے گزشتہ سال 3 مارچ کو نجی ٹی وی چینل ’نیو نیوز‘ کے پروگرام ’آج عائشہ احتشام کے ساتھ‘ میں ’عورت مارچ‘ کے موضوع پر ہونے والی بحث کے دوران سماجی کارکن و خواتین رہنما ماروی سرمد کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی تھی، جس وجہ سے انہیں بھرپور تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔خلیل الرحمٰن قمر نے براہ راست پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہنے سمیت ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی اور انہیں ’جسم کے طعنے‘ بھی دیے تھے۔پروگرام میں بات کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے کہا تھا کہ ’اگر عدالت نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے غلیظ نعرے کو استعمال نہ کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ جب ماروی سرمد جیسی خواتین کو اس پر بات کرتے ہوئے سنتے ہیں تو ان کا کلیجہ ہلتا ہے‘۔خلیل الرحمٰن قمر کے اسی جملے کے دوران ماروی سرمد نے ’میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ لگایا تو خلیل الرحمٰن قمر ایک دم غصے میں آگئے اور انہوں نے پہلی بار ہی ماروی سرمد کو سخت لہجے میں تنبیہ کی کہ ’درمیان میں نہ بولیں‘۔جس پر ماروی سرمد نے ایک بار پھر ’میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ لگایا تو خلیل الرحمٰن قمر مزید غصے میں آگئے اور انہوں نے انتہائی بدتمیزی سے خاتون رہنما کو بولا کہ ’بیچ میں مت بولو تم، تیرے جسم میں ہے کیا، اپنا جسم دیکھو جاکے‘۔ڈراما مصنف کی جانب سے نامناسب زبان استعمال کیے جانے پر جہاں عام لوگوں نے بھی انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں معروف شخصیات نے بھی ان کے رویے کی مذمت کی تھی۔