باجوہ صاحب آپ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،ہم پاک فوج کے آج بھی شکر گزار ہیں ۔۔۔امریکہ نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے نام شاندار پیغام بھجوا دیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) امریکی سفارتکار پال جونز نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الوداعی ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف نے پاکستان کیلئے امریکی سفارتکار کی خدمات کو سراہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پال جونز نے افغان مفاہمتی عمل


میں پاکستان کے مثبت کردارکی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کے تعاوَن سے خطے میں امن واستحکام کو فروغ ملے گا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبرکے مطابق پاکستان سعودی عرب تناؤ کے پیچھے کہانی صرف کشمیر کی نہیں بلکہ اصل مسئلہ چاہ بہار کی بندر گاہ ہے۔بی بی سی اردو پر شمائلہ جعفری نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تناؤ کی بظاہر سب سے بڑی وجہ کشمیر کے معاملے پر ریاض کی جانب سے اسلام آباد کے مؤقف کی کھل کر حمایت نہ کرنا ہے۔ تاہم کئی سیاسی امور کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہکہانی صرف کشمیر کی نہیں اور یہ کہ دونوں ملکوں میں ’دوریوں‘ کی ایک وجہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا حصہ بنوانے میں پاکستان کا کردار بھی ہے۔پہلے چابہار ریلوے منصوبہ انڈیا کہ تعاون سے بنایا جا رہا تھا لیکن اب ایران نے دفاعی اور اقتصادی اہمیت رکھنے والے اس منصوبے سے انڈیا کو علیحدہ کر دیا ہے۔اب چین اس ریلوے لائن پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کرے گا۔ جو کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی سلامتی اور خطے میں اس کے تجارتی اور سیاسی مفادات میں بہتر ہے۔تجزیہ کار ڈاکٹر رضوان نصیر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر پاکستان نے کوششیں کی ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہدری ایران سے منسلک ہو جائے اور چابہار بندرگاہ بھی سی پیک کے دائرے میں آ جائے تو اس پر سعودی عرب میں ردِ عمل ضرور ہے۔’ایران اور سعودی عرب نظریاتی مخالف ہیں اور دونوں کے درمیان یمن سے لے کر شام تک کئی پراکسیز (بلاواسطہ جنگیں) چل رہی ہیں۔‘رضوان نصیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہے اور امریکہ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں تو ایسا کوئی بھی منصوبہ جس سے ایران کو معاشی طور پر فائدہ ہو یا چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کو تقویت ملے امریکہ بھی اسے ناپسند ہی کرے گا۔انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نے یہ قدم نیک نیتی اور اپنے اور خطے کے مفاد میں اٹھایا ہے لیکن سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں، امریکہ اور بھارت کے لیے اسے برداشت کرنا کافی مشکل ہے۔’خاص طور پر سعودی عرب جو سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کے مفاد کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔‘کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جو تین ارب ڈالر دیے تھے ان کی وقت سے پہلے واپسی کا تقاضا کیا ہے۔ اس میں سے تقریباً ایک ارب ڈالر پاکستان نے چین کی مدد سے واپس بھی کیے ہیں۔ایک ارب ڈالر کی وقت سے پہلے واپسی کے سوال پر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بینکوں میں پڑے پیسے تو کبھی بھی واپس ہو سکتے ہیں۔