دال میں کچھ کالا ہے ۔۔۔!!! نیب کا وزیراعظم عمران خان کے لاڈلے عثمان بزدار کو دوبارہ طلب کرنے کا فیصلہ ، بڑی حقیت سامنے آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک)قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شراب لائسنس کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔اے آر وائی نیوز کے مطابق شراب لائسنس کیس میں نیب وزیر اعلیٰ پنجاب کے جواب سے مطمئن نہیں، ذرایع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کو نیب آفس دوبارہ طلب


کرنے کا امکان ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار 12 اگست کو نیب میں پیش ہوئے تھے، ذرایع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے نیب سے جواب جمع کرانے کے لیے 4 ہفتے مانگے تھے، تاہم نیب نے انھیں صرف ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔عثمان بزدار کی جانب سے 18 اگست کو 4 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرایا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ شراب لائسنس کے اجرا میں وزیر اعلیٰ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔وزیر اعلیٰ کی جانب سے نیب کے پوچھے گئے 17 سوالوں کے جواب میں کہا گیا تھا کہ عثمان بزدار نے شراب لائسنس کے معاملے پر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا، شراب لائسنس کے اجرا میں وزیر اعلیٰ کا کوئی کردار نہیں تھا۔جواب میں کہا گیا کہ شراب کا لائسنس دینے کا اختیار ڈی جی ایکسائز کے پاس ہے، شراب کے کل 11 لائسنس جاری ہوئے تھے، 9 ڈی جی ایکسائز نے خود جاری کیے، جب کہ 2000 اور 2001 میں گورنر نے لائسنس جاری کیے تھے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے جواب میں کہا کہ نجی ہوٹل کے لائسنس پر آج تک ایک بھی شراب کی بوتل فروخت نہیں ہوئی، نجی ہوٹل نے لائسنس کو رینیو کرانے کے لیے بھی اپلائی کر رکھا ہے ، نیب انکوائری میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔