حکومت کا شاندار فیصلہ! اب مردوں کے ساتھ ساتھ نظر آئیں گی خواتین بھی، خواتین تاجروں کو بڑی خوشخبری سُنا دی گئی

اسلام آباد( ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک نے تاجر خواتین کی مدد کے لیے ری فنانس اسکیم کے تحت قرضے کا حجم بڑھا دیا۔ تفصیلات کے مطابق بینک دولت پاکستان نے معیشت میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی ‘ری فنانس اینڈ کریڈٹ گارنٹی اسکیم فار ویمن انٹرپرینرز ‘ کے

تحت فنانسنگ کی حد 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کردی ہے۔یہ فیصلہ خواتین تاجروں کی مالکاری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موجودہ فنانسنگ حد کے ناکافی ہونے کے بارے میں مختلف متعلقہ فریقوں سے حاصل ہونے والی آراء کی روشنی میں کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تقویت دینے اور بحال کرنے کی حکومت پاکستان کی پالیسی اور اسٹیٹ بینک کے اس کلیدی ہدف سے مطابقت رکھتا ہے کہ خواتین تاجروں سمیت ترجیحی شعبوں کی فنانس تک رسائی بہتر بنائی جائے۔ابتدائی طور پر اگست 2017ء میں اسٹیٹ بینک نے ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں خواتین تاجروں کی مالی شمولیت اور فنانس تک رسائی کو فروغ دینے کے لیے ری فنانس اینڈ کریڈٹ گارنٹی اسکیم فار ویمن انٹرپرینرز متعارف کرائی تھی۔ بعد میں اسکیم کا دائرۂ کار بڑھا کر اسے پورے پاکستان پر محیط کردیا گیا۔اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک زیادہ سے زیادہ 5 فیصد شرح صارف پر خواتین تاجروں کو فنانسنگ فراہم کرنے والے شریک مالی اداروں کو صفر فیصد پر ری فنانس مہیا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ شریک مالی اداروں کو 60 فیصد رِسک کوریج پر دستیاب ہے۔توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی اس اسکیم کے تحت فنانسنگ کی حد میں اضافے سے خواتین کی مالی شمولیت بڑھے گی کیونکہ اس کے نتیجے میں متوقع طور پر زیادہ تعداد میں تاجر خواتین اسٹیٹ بینک کی اسکیم کے تحت رعایتی فناسنگ حاصل کرکے نئے کاروبار قائم کرنے یا موجودہ کاروبار کا دائرہ وسیع کرنے کی طرف راغب ہوں گی۔دوسری جانب

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان کے تمام اضلاع میں بچوں کے وظیفے کا پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا لوگوں کی احساس پروگرام تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ احساس پروگرام کی 15ماہ میں منظوری ہوئی، احساس پروگرام ریاست مدینہ ویژن کے مطابق بنایا گیا، احساس کفالت کے ذریعے70لاکھ خاندانوں کو وظیفے دیئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام انڈر گریجویٹ اسکالرشپ پروگرام ہے جبکہ نشوونما کا پروگرام ایک سال کی محنت کے بعد شروع کیا گیا، ایک سال کی محنت کے بعد 9اضلاع میں33سینٹرز فعال ہوں گے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ احساس لنگر پروگرام مزدور بھائیوں کیلئے شروع کیا گیا، اس سال تک 12لنگر خانوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ، پاکستان کی تاریخ میں 100سے زائد پناہ گاہ بنائی گئی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے سال یتیم خانوں کےاسٹینڈرڈ کی بہتری کیلئے کمیٹی بنی، تاریخ میں پہلی بار مزدور کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے، پاکستان کے تمام اضلاع میں بچوں کے وظیفے کا پروگرام شروع ہوگا۔ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس کیش پروگرام میں سندھ کے عوام کو 31فیصد حصہ دیا گیا،احساس پروگرام میں ٹیکنالوجی کو فروغ دےرہےہیں اور تمام منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی رہنمائی،بغیرتعاون پروگرامزکوجلدی لانا مشکل تھا تاہم لوگوں کی احساس پروگرام تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔