حقیقت سامنے آتے ہی پاکستانی چِلا اُٹھے، کیا معصوم بچوں کو انصاف مل گیا؟

لاہور (ویب ڈیسک) عارف حمید بھٹی کا کہنا تھاکہ ” اس شہر سنگدل کو جلا دینا چاہیے، میں ہمیشہ کہتا ہوں، پھر اس کی راکھ کو بھی اڑا دینا چاہیے، ساہیوال میں پولیس نے معصوم بچیوں پر وحشیانہ گولی چلائی، مقبوضہ کشمیر کی نہیں پاکستان کی بات کررہا ہوں جس میں ایک میاں بیوی شہید ہوگئے،

اس دن کا پروگرام نکال لیں، میں نے کہا تھا اس کیس کا کچھ نہیں بنے گا، مجھے پتہ تھا مارنے والا اور مروانے والا کون ہے؟ اس میں ایک جواد قمر تھے ایس ایس پی صاحب، انہوں نے گولی مارنے کا حکم دیا، کچھ لوگ کہتے ہیں انہوں نے جاکر ایک بیگ اندر رکھا، اب انہی جواد قمر ایس ایس پی کو تمغہ شجاعت دیا جارہا ہے”۔ عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ ” مجھے نہیں پتہ، اس کی وجہ کوئی اور ہوگی لیکن اس کا ماضی یہ ہے کہ وہ ایک گاڑی میں بیگ لیجا کر رکھ رہا ہے اور کہہ رہا ہے دیکھتے ہی گولی ماردیں، یار یہ تو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، یہ حکومت کرکیا رہی ہے؟۔ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے طاہر ملک نے کہا کہ “مجھے یاد ہے وزیراعظم عمران خان صاحب نے قطر سے کہا تھا میں 100 فیصد انصاف دوں گا”۔ عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ “وہ ایک غریب آدمی تھا، آپ ہمارا پروگرام نکالیں میں نے کہا تھا اس کیس کا کچھ نہیں ہوگا، ان کو ڈرایا جارہا ہے دھمکایا جارہا ہے، دو معصوم بچیاں رہ گئی ہیں ماں باپ شہید ہوگئے ہیں۔ اس ملک میں قتل کرنے کی سزا تمغہ شجاعت ہے، یہ کسی اور کیس میں دیا گیا ہوگا لیکن اس کو تو گرفتار ہونا چاہیے ، خدا کا واسطہ ہے، سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں آپ نے لوگوں کو 100 گولیاں مروائیں۔ اس وقت کم سے کم انہوں نے ان کو اوایس ڈی تو کردیا ، آپ نے تو سانحہ ساہیوال کے تمام مرکزی ملزموں کو من پسند نا صرف عہدوں سے نوازا بلکہ انتہا کردی ظلم کی،جن معصوم بچیوں کے سامنے گولیاں کھائیں وہ حشر والے دن بھولیں گے نہیں، اے حاکم وقت، حشر والے دن تمغہ شجاعت نہیں ہوگا، ان بے گناہوں کا ہاتھ آپ کے گریبان پر ہوگا”۔