اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔!!! سرفراز احمد کو عمران خان نے کپتانی سے ہٹا یا ؟مکمل ثبوتوں کے ساتھ بڑے حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا

کراچی(ویب ڈیسک )سابق ٹیسٹ کرکٹرسکندر بخت نے کہا ہے کہ سرفرازاحمد کو کپتانی بھی نہیں دینی، کھلانا بھی نہیں ہے لیکن ٹیم کے ساتھ رکھنا ہے سنٹرل کنٹریکٹ دیکر،اصل میں بورڈ پر عوام کا دباوے کہ سرفراز کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔نجی نیوز چینل جیو کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سکندر بخت نے دعویٰ کیا کہ

سرفرازاحمد کا ایشو یہ ہے کہ اسے نہ وسیم خان نے ڈراپ کیا ہے، نہ احسان مانی نے ڈراپ کیا ہے، نہ مصباح نے،انہیں اوپر سے ڈراپ کرنے کے آرڈر آئے تھے۔سکندر بخت نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب انڈیا پاکستان کا ورلڈکپ کا میچ ہورہا تھا تو انہیں کہا گیا کہ پہلے بیٹنگ کرلو، شاید انہوں نے بیٹنگ نہیں کی۔ شاید یہی وجہ بنی انہیں کپتانی سے ہٹوانے کی، یہ میری رائے ہے، یہ میں کہہ رہا ہوں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے نوجوانوں کیلئے قرض کی حد اڑھائی کروڑ کرنےکا اعلان کردیا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ پہلے نوجوانوں کو قرض دینے کی حد50 لاکھ تھی، نوجوانوں کو فراہم کیے گئے قرض پر شرح سود کم کرکے نصف کردی ہے، مزید 7500 نوجوانوں کو قرضے دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے معاون خصوصی عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی پالیسیوں کا محورعام آدمی ہے۔ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو پیسے دے کر کاروباری میں خودمختار بنایا جائے۔ کامیاب جوان پروگرام کیلئے ہر ممکن فنڈز فراہم کررہے ہیں۔ پروگرام کے تحت 50 ہزار نوکریاں دی جائیں گی۔ اب تک 2900 نوجوانوں کو ایک ارب روپے سے زائد کے قرضے دیئے جاچکے ہیں۔حفیظ شیخ نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت حکومت نے مزید 7500 نوجوانوں کو قرضوں کی منظوری دی ہے۔قرضوں کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر اڑھائی کروڑکردی ہے۔ پہلے نوجوانوں کو 50 لاکھ روپے تک قرضے دیئے جا رہے تھے۔ اب نوجوانوں کو قرضے دینے کی حد بڑھا کر اڑھائی کروڑ روپے تک قرضے دیئے جائیں گے۔ نوجوانوں کو فراہم کیے گئے قرض پر شرح سود کم کردی ہے، اب شرح سود نصف کردی گئی ہے۔ چھوٹی صنعتوں اور تاجروں کی حوصلہ افزائی بڑا چیلنج ہے۔ کورونا وائرس مدت کے دوران صنعتی شعبے کو ریلیف دینے کیلئے 1200ارب کا پیکج دیا گیا۔اسی طرح اسکیم کو 3 سے بڑھا کر21 بینکوں تک کر دیا گیا ہے۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت حکومتی اخراجات میں کمی کی ہے۔ کورونا کے دوران شفاف انداز میں ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں بہت ساری چیزیں بہتر ہوئی ہیں، جس سے حکومت کو حوصلہ ملا ہے۔ موڈیز نے بھی پاکستانی معیشت کو مستحکم قرار دیا ہے۔ بلوم برگ سمیت عالمی ادارے معاشی بہتری کا اعتراف کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جولائی میں پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔پچھلے مہینے کے مقابلے میں ایکسپورٹ میں بھی 6 فیصد اضافہ ہوا۔ ریونیو کلیکشن توقع سے23 فیصد زیادہ ہوئی۔ پچھلے سال کی نسبت سیمنٹ کے استعمال میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔ ان سب چیزوں کو دیکھ کر لگتا ہے معیشت میں جان پڑ گئی ہے۔