مریم اور شہباز ، نہ ہی بلاول : عمران خان ناکام ہوا تو پھر کون اقتدار میں آئے گا ، اگلی باری کس کی ہے ؟ مظہر عباس کی تہلکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان اسلامی بلاک بنانے میں کامیاب رہا۔ اس دوران بھٹو جلدی میں ایک سال قبل الیکشن کا اعلان کر کے پھنس گئے۔ 1977میں الیکشن میں پی پی پی آسانی سے جیت جاتی مگر خود کو بلا مقابلہ جتوانے کا جاگیردارانہ فیصلہ ان کے خلاف گیا۔ تحریک چلی اور پھر ایک اور مارشل لا۔

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پانچواں تجربہ: ایک بار پھر میرے عزیز ہم وطنو کہہ کر جھوٹ بولا گیا، جنرل ضیاء الحق کا دور 11سال رہا۔ 90روز میں الیکشن کرا کر بیرکوں میں جانے والے نے اس ملک کاحلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ قوم کبھی پہلے اتنی تقسیم نہیں ہوئی تھی، پہلے ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی اور اس کے بعد اس کی پارٹی کو تقسیم اور ختم کرنے کی خاطر مختلف تجربات جس میں کاروباری لوگوں کو سیاست میں لانا بھی شامل تھا کر کے ملک کو انتہا پسندوں کے سپرد کر دیا۔ 17؍اگست 1988کو خود بھی ایک فضائی حادثہ کا شکا ر ہو گئے۔چھٹا تجربہ:1988 سے 1999تک پانچ حکومتیں آئیں اور برطرف سب سے پہلے محمد خان جونیجو پھر دوبار بےنظیر بھٹو کی حکومت،ایک بار نواز شریف کی حکومت آئین کے 58-2(B)کا شکار ہوئیں۔کرپشن پر حکومت ہٹانے اور کرپشن کے ذریعہ حکومت لانےکے تجربات ہوتے رہے اور 12؍اکتوبر 1999کو پھر فوجی حکومت آئی، ایک بارپھر مارشل لانافذ کیے بغیر مارشل لا لگ گیا۔ ایک بار پھر نظریہ ضرورت، کام آگیا۔ جنرل(ر) پرویز مشرف 9سال اقتدار میں رہے۔ان کا نشانہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) رہیں۔ دونوں جماعتوں کو توڑا گیا۔ ان کا اقتدار وکلا تحریک کے نتیجے میں 2008کو ختم ہوا مگر اس دوران محترمہ بےنظیر بھٹو کی شہادت نے سیاست کو شدید نقصان پہنچایا۔ساتواں تجربہ:2008سے 2014تک ملک میں انتخابات بھی ہوئے اور حکومتوں نے اپنا وقت یعنی پانچ سال پورے بھی کئے مگر تصور کریں 2008میں ایک صفحہ اول پر چھوٹی سی خبر چھپی کہ فوج الیکشن میں غیرجانبدار رہے گی۔ اور ہمیں نتائج پتا چل گئے۔پہلی بار ایک تیسری سیاسی قوت پاکستان تحریک انصاف ابھر کر سامنے آئی اور اب آٹھواں تجریہ برسر اقتدار ہے۔ لوگوں کو امید ہے کہ شاید یہ تجربہ کامیاب رہے ورنہ پھر… میں ہوں نا۔