اقتدار پر قبضہ اور برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات : جنرل قمر جاوید باجوہ نے دل میں کیا فیصلہ کر لیا ہے ؟ صابر شاکر کی بڑی سیاسی بریکنگ نیوز

لاہور (ویب ڈیسک) جنرل پرویز مشرف کے بعداسٹیبلشمنٹ میں یہ سوچ تقویت پکڑ چکی ہے کہ اب براہ راست اقتدار نہیں سنبھالا جائے گا بلکہ صرف اپنا اِن پُٹ دیا جائے گا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے جنرل راحیل شریف اور اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک یہی سوچ نمایاں ہے

نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور ملٹری اپنے فیصلے پر قائم ہے ‘ورنہ ایسے کچھ سنجیدہ مواقع آئے کہ جب باآسانی اقتدار سنبھالا جاسکتا تھا۔ایک اور فیصلہ بھی کیا گیا کہ برادر دوست ملکوں کے اختلافات میں کسی ایک ملک کا ساتھ نہیں دیا جائے گا اور خاص طور پر کسی قسم کی عسکری مدد نہیں کی جائے گی۔ ایک اور فیصلہ بھی کیا گیا کہ پراکسیز کو بھی بتدریج سمیٹ دیا جائے گا اور داخلی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کیاجائے گا ۔یہ فیصلے جنرل اشفاق پرویز کیانی کے زمانے میں کیے گئے اور اب تک ان پالیسیوں میں تسلسل برقرار ہے ۔باقی رہی سہی کسر ایف اے ٹی ایف نے پوری کردی ۔ میاں نواز شریف کے زمانے میں یمن کے معاملے میں پہلی بار پالیسی شفٹ دیکھنے کو ملا جب پاکستان نے اپنی افوج یمن بھیجنے سے انکار کردیا اور پارلیمنٹ میں یہ معاملہ زیربحث آیا ۔اسی طرح پاکستان نے جب گوادر پورٹ کو فعال کرنے کی کوشش کی تو تمام برادرملکوں نے اس تعمیر وترقی اور پاکستان کی لائف لائن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسے ایسے رخنے ڈالے کہ خدا کی پناہ‘ اور اس معاملے میں تمام باہم دست وگریبان برادر ملک ایک پیج پر نظر آئے ۔ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں بھی برادر اور غیر برادر ہم نوالہ و ہم پیالہ نظر آئے اور ایسا وقت بھی آیا کہ پاکستان کو براہ راست ایسے ممالک کو تنبیہ کرنا پڑی ۔پھر بدامنی پھیلانے والے نیٹ ورک بھی پکڑے گئے

اور دشمن ملک کے افسر دوست ملکوں کی سرزمین استعمال کرتے بھی پکڑے گئے۔ خداخدا کرکے چین کے ساتھ سی پیک کا میگا منصوبہ شروع ہوا‘ جو کسی کے خلاف نہیں ہے‘ لیکن اس کو بھی سبوتاژ کرنے میں دشمنوں نے خوب حصہ ڈالا اور پیش پیش انڈیا تھا‘ جو فرنٹ مین کا کام کررہا تھا۔ اسی دوران مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں شب خون مارا اور پانچ اگست کا بڑا گھناؤنا اقدام کر ڈالا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں انڈیااور کشمیر بنیادی حیثیت رکھتے ہیں‘ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اب اس کو ہم سے مکمل طور پر جدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔پاکستان کو توقع تھی کہ او آئی سی متحرک ہوگی اور برادر آگے آئیں گے ‘لیکن ایک سال گزرنے پر بھی کچھ نہ کیاگیا ۔اسرائیل کوپاکستان نے براہ راست دشمن اس لیے بنایا کہ وہ ہمارے برادر ملکوں کا دشمن ہے اور ان کی سالمیت کا دشمن ہے‘ ہمارے جوانوں نے برادر ملکوں کے لیے خون دیا اور ہماری فضائیہ کے پائلٹس نے اپنی شناخت ختم کرکے گمنام بن کر جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا‘ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کم وبیش سب نے اسرائیل کے سا تھ سفارتی و غیر سفارتی تعلقات قائم کر لیے اور کبھی پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔پاکستان اس وقت تمام برادر ممالک کے ساتھ برابری اور دوطرفہ احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے میں کوشاں ہے اور ستر برسوں میں اتنے تجربے کرچکا ہے اور اتنے گھاؤ کھا چکا ہے کہ اب وہ کسی ایک پلڑے میں رہ کر

اور یک طرفہ مفاد میں پسنا نہیں چاہتا‘ بلکہ تمام برادر ملکوں کو بھی باہمی تنازعات ختم کرنے اور صلح کرنے کا پیغام دے رہا ہے‘ لیکن وطنِ عزیز سے ایسے مطالبات کیے جارہے ہیں کہ وہ اب ان کا وزن اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ رنجشیں ‘دکھ درد اور کرب بڑھ چکا ہے اور پاکستان کے تمام بلا معاوضہ کیے گئے احسانات بھلا کر اس سے حساب مانگا جاتا ہے‘ بلکہ اس کی نیت پرشک کیاجاتا ہے۔ اسے تحکمانہ لہجے میں ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ اس سے اِدھر یا اْدھر کا مطالبہ کیاجاتا ہے‘ لیکن پاکستان اب بڑا اور سمجھدار ہوچکا ہے۔ معاملہ اشرافیہ کے درمیان بگڑا ہواہے جو اپنی ناک سے آگے دیکھنا نہیں چاہتے یا پھر ان کی بہت ہی بڑی مجبوریاں ہیں۔ وجہ کوئی بھی ہو معاملات سنجیدہ اور حساس ہیں‘ غلط فہمیاں دور کرنے اور زمینی حقائق کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے مفادات کو اکاموڈیٹ کرنے کے لیے زور دیا جارہا ہے‘ باہمی احترام کا احساس دلایا جارہا ہے‘ ہر ملک کو اپنی سلامتی عزیز ہے اور پاکستان کو تو سب سے زیادہ‘ کیونکہ پاکستان تو دولخت بھی ہوچکا ہے اور مزید سازشیں در پیش ہیں‘ اس لیے پاکستان اب مزید رسک لینے اور اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بدامنی کے خلاف بیس برسوں میں پاکستانی قوم نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں‘ اب سکھ کا سانس لینے کا وقت آیا ہے تو اسے پھر پراکسیز کے کھیل میں دھکیلنے کی کوشش کے جارہی ہے‘ جس کے لیے وہ تیار نہیں ۔ نئی سوچ‘ مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا اس کا حق ہے۔