شاہ محمود قریشی کے بلاول بھٹو اور شہباز شریف کو شکرانے کے خطوط ۔۔۔ اندر کھاتے کیا گیم چل رہی ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اور کشمیر کے حوالے سے 6 اگست کو بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی شرکت اور قانون سازی میں معاونت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کے تعاون کو سراہتے ہوئے انہیں اظہار تشکر کے خطوط ارسال کردیے۔خط میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہ صرف حکومتی بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے جس طرح بالغ نظری کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اپوزیشن کے مثبت رویے کی تعریف ایوان کے اندر بھی کر چکا ہوں’۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی مؤقف کی حامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے لیے اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو بھی پارلیمنٹ کی تمام سیاسی جماعتوں نے مشترکہ قرارداد کے ذریعے، متفقہ طور پر مسترد کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے گزشتہ ایک سال میں جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے۔شاہ محمود قریشی نے وضاحت دی کہ ‘گزشتہ ایک سال کے دوران اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں تین مرتبہ کشمیر کو زیر بحث لایا گیا، 55 سال کے بعد مسئلہ کشمیر پر سیکیورٹی کونسل میں مباحثہ ہوا’۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سمیت اہم قومی معاملات پر ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کے حق میں ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے سامنے آنے والی قابل عمل تجاویز کو ہمیشہ اہمیت دیتے رہیں گے۔خط کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ‘میں کشمیر پالیسی کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے آپ کی جانب سے مثبت تجاویز کا منتظر رہوں گا’۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی اتحادی حکومت، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سخت مشاورت کے بعد میوچوئل لیگل اسسٹنس (مجرمانہ معاملات) بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے میوچوئل لیگل اسسٹنس (کرمنل میٹرز) ترمیمی بل 2020 پیش کیا تھا۔جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف)، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور آزاد اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر نے بل کی مخالفت کی اور ‘نامنظور، نامنظور’ کے نعرے لگائے تھے۔وزیر قانون فروغ نسیم نے بل میں ترامیم پیش کیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سے معاہدے کے بعد اپنی ترامیم واپس لے لی تھیں۔بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے میوچوئل لیگل اسسٹنس بل 2020 کی منظوری دے دی تھی۔