جن گاڑیوں میں پتھر بھر کے مریم نواز پر حملہ کیا گیا وہ کس کی ملکیت ہیں اور اس حملہ کے پیچھے کیا منصوبہ بندی چھپی ہے ؟ وزیر قانون پنجاب تمام ثبوت سامنے لے آئے

لاہور(ویب ڈیسک)وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہاہے کہ مریم نواز کے ساتھ آنے والی تمام گاڑیوں کاریکارڈ طلب کرلیامحکمہ ایکسائز سے گاڑیوں کاریکارڈ لے کر مقدمات بنائے جائیں گے ۔وزیر قانون راجہ بشارت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی،کوئی بھی سیاسی قیادت گاڑی میں پتھر بھر کر

لائے قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہاکہ گاڑی کی شناخت ہو چکی ہے ،گاڑی کس کے نام ہے اس پر کام کیاجارہا ہے،جس نے بھی قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش اس کیخلاف کارروائی ہوگی۔وزیر قانون پنجاب نے کہاکہ پتھراﺅ اورپولیس چوکی پر حملہ ایک منظم سازش کے تحت کیاگیا،جعلی نمبرپلیٹیس لگاکرگاڑیوں میں پتھر بھر کرلاناسب تحقیقات میں سامنے آجائے گا۔تفصیلات کے مطابق مریم نواز کے قافلے میں شریک پتھروں سے بھری گاڑی کی شناخت ہوگئی ،گاڑی میں ن لیگی ایم پی اے مرزا جاوید سوار تھے ۔نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق مریم نواز کے قافلے میں شریک پتھروں سے بھری گاڑی کی شناخت ہوگئی ،مریم نواز کے قافلے میں پتھروں سے بھری گاڑی ایوب خان کے نام رجسٹرڈہے ،مریم نواز کے قافلے میں گاڑی ایل زیڈ6000 میں پتھر رکھے گئے تھے ،گاڑی میں ن لیگی ایم پی اے مرزا جاویدسوار تھے ۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کارکنان پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے بیریئر کے قریب پولیس کی وردیوں میں ملبوس لوگوں نے ان کی گاڑی پر پتھرائو کیا جس کی وجہ سے بلٹ پروف گاڑی کی ونڈ سکرین میں کریک آگیا، پرویز رشید ساتھ گاڑی میں بیٹھے تھے اور وہ بولے کہ شکرکریں، گاڑی بلٹ پروف تھی، ورنہ شیشہ ٹوٹ کر سر پر لگتا اور پھر پتھر ہی سیدھے لگنے تھے۔رانا ثنااللہ اور شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ، پولیس وردی میں ملبوس لوگ پولیس اہلکار تھے یا نہیں، وہ اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتیں، میرے ہاتھ میں موبائل فون موجود تھا اور میں نے موبائل کیمرہ آن کیا اور فوری ویڈیو بنا کر شواہد کے لیے سوشل میڈیا پرشیئرکردی۔ شیشہ ٹوٹنے یا اس کے بعد آنیوالے پتھر سر میں لگتے تو ہیڈ انجری کی صورت میں وہ اب ہسپتال میں پڑی ہوتیں یا وہ کوئی اور نقصان ہوسکتا تھا جو اب وہ کہنا نہیں چاہتیں۔