عمران حکومت کا ایک اور شاہکار ۔۔۔ نئی موٹروے تعمیر کرنے کا فیصلہ ، یہ کہاں بنے گی؟ جانیئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں دیر چترال موٹر وے کی تعمیر کیلئے کسی قسم کی فزیبیلیٹی رپورٹ تیار نہیں کی گئی تھی موجودہ حکومت نے دیر چترال موٹر وے بنانے کیلئے سی پیک کمیٹی کو سفارشات پیش کی ہیں تاہم

ابھی تک چین کی حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی ہے ۔جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ ایوان میں دیر چترال موٹر وے کی بات کی گئی ہے تاہم کل ایبٹ آباد ہزارہ م موٹر وے سیکشن کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہاہے کہ دیر چترال موٹر وے ہمارے منصوبوںمیں شامل نہیں ہے تو وزیر مملکت کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارے منصوبے میں شامل ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو نکالا ہے اس منصوبے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اس علاقے میں بہت زیادہ معدنیات ہیں اور اس علاقے میں سیاحت کو بہت اہمیت حاصل ہے اس اہم روٹ کو تحریک انصاف کی حکومت نے سی پیک سے نکالا ہے دیر اور چترال کے لوگوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا ہے مگر آج انہیں قومی وسائل میں حصہ نہیں دیا جارہا ہے انہوںنے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سی پیک میں اس اہم منصوبے کو شامل کیا جائے انہوںنے کہاکہ آج ایوان میں جو قانون سازی ہوئی ہے وہ ایف اے ٹی ایف کے دبائو میں ہوئی ہے بدقسمتی سے ملک میں مظلوم کے مقاصد کو اہمیت نہیں دی گئی ہے حکومت نے عافیہ صدیقی کے نام پر ووٹ لیا ہے اور آج ایوان میں کھلبوشن کو اہمیت دی جارہی ہے انہوںنے کہاکہ اس قانون سازی سے کشمیریوں کو کیا پیغام جائے گا کیا اپوزیشن اور حکومت ملک میں پٹرول ،چینی اور گندم مافیا

کے خلاف اکٹھی ہوگی آج ملک میں سونا 1لاکھ 25ہزار پر چلا گیا ہے پاکستان میں خودکشیاں زیادہ ہورہی ہیں آج ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے طورخم تک جانے والے ٹرکوں سے 50ہزار روپے لئے جارہے ہیں اس ظلم کو بند کیا جائے حکومت ملک میں معیشت کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ دیر چترال موٹروے کا مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا ہے دیر ، چترال اور سوات کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی ہے ہم ان علاقوں کے حقوق کو کسی صورت بھی صلب نہیں کر یں گے اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے دیر چترال موٹر وے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے کے تمام تفصیلات قومی اسمبلی میں بتائیں ہیں انہوںنے کہاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس منصوبے کا زکر موجود ہے تاہم یہ موٹر وے نہیں ہے اور اس سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی این ایچ اے بورڈ نے منظوری دی ہے اور مارچ 2021میں اس پر کام بھی ہوگاانہوں نے بتایاکہ مسلم لیگ کے اخری سالانہ ترقیاتی پروگرام میں دیر چترال موٹر وے کا کوئی زکر موجود نہیں تھااور اس منصوبے کو سابقہ صوبائی حکومت نے سی پیک کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا انہوںنے کہاکہ گذشتہ سال جے سی سی میں یہ بات اٹھائی گئی تھی اور میں نے خود مغربی روٹس کے حوالے سے اس کی سفارش کی تھی تاہم ابھی تک چین کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی ہے انہوںنے کہاکہ ہم نے اس موٹر وے کو ختم نہیں کیا ہے انہوں نے کہاکہ سابقہ دور میں اس منصوبے کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ یہ موٹر وے تھا اس کو محض ایک سڑک کانام دیا گیا تھاہماری خواہش ہے کہ ہم اس کو موٹر وے بنائیں ہم تمام دستاویزات کو ایوان میں پیش کریں گے انہوںنے کہاکہ سی پیک ہمارا مستقبل ہے چین اور پاکستان نے مل کر بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کا آغاز کیا ہے اس موقع پر وفاقی وزیر نے دیر چترال موٹر کے بارے میں تمام دستاویزات ایوان میں پیش کردی۔