خبردار ہوشیا ر: عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ۔۔۔!!! حکومت نے پاکستانیوں کو بڑے خطرے سے پیشگی آگاہ کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) عید پر آلودہ ماحول کی وجہ سے وبائی امراض پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ ایک طرف جہاں کورونا سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، وہاں ہی دوسری جانب دیگر وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے آگاہ کر دیا ہے کہ

عید پر آلودگی کی وجہ سے دیگر وبائی امراض بھی پھیل سکتے ہیں۔ماہرین طب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گیسٹروں، ملیریا، اسہال،کھانسی اور نزلہ زکام سمیت پیٹ کی دیگر بیماریوں سے بچنا ضروری ہے اس لیے صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا، پانی کو ابال کر پینے اور کھانا پکاتے وقت بر تن، سبزی، گوشت کو اچھی طرح صاف کرنا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق قربانی کرتے وقت اور عید کے موقع پر ماسک لگانا اور سماجی فاصلہ رکھنا بھی ناگزیز ہے تاکہ آپ خود اور دوسرے کو محفوظ رکھ سکیں۔حکومت کے ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بزرگ افراد، خواتین اور بچے غیر معیاری مشروبات اور کھانوں سے پرہیز کریں تاکہ بیماریوں سے دور رہ سکیں۔ خیال رہے کہ اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں میں عید کی خوشیاں پائی جا رہی ہیں۔ تاہم ملک بھر میں عید کی تعطیلات کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شہبازگل نے عید کی تعطیلات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عید کے موقع پر 3 چھٹیاں دی جائیں گی۔خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عید کیلئے صرف 1 چھٹی دی جائے گی، تاہم حکومت نے اس کی تردید کر دی ہے۔واضح رہے کہ رویت ہلال کمیٹی نے کچھ روز قبل اعلان کیا تھا کہ ملک میں یکم اگست کو عید الاضحیٰ منائی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد گزشتہ عید کی طرح اس مرتبہ بھی رویت ہلال کمیٹی اور فواد چوہدری کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا ۔ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے ایک روز بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر عید الاضحیٰ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق ہوگی، تاہم بدھ 22 جولائی کی شام کو جس نے بھی ذی الحج کا چاند دیکھا، اس نے یہی کہا کہ یہ دوسرے دن کا چاند ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل فواد چوہدری نے عید 31 جولائی کو کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں رویت ہلال کمیٹی نے 21 جولائی کو ہونے والے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ چونکہ بادلوں کی وجہ سے چاند نہیں دیکھا جا سکا، اس لیے عید الاضحیٰ 31 جولائی کی بجائے یکم اگست بروز ہفتہ کو ہوگی۔