نیب قوانین میں ترمیمی بل کا مسودہ تیار۔۔۔!!!حکومت نیب میں کیا بڑی تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے ؟واضح کر دیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) نیب قوانین میں ترمیمی بل کا مسودہ تیارکرلیا۔مجوزہ ترمیمی مسودے کے مطابق نیب آرڈیننس کے سیکشن6 سے ناقابل توسیع کا لفظ نکالاجائیگا۔نئی ترمیم کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکے گی۔ ڈپٹی چیئرمین نیب اورپراسیکیوٹرجنرل نیب کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کی جاسکےگی۔مسودہ کے مطابق سیکشن7 اور 8 میں

مدت ملازمت میں ناقابل توسیع کا لفظ نکال دیاجائے گا۔ ترامیم کے تحت وفاقی اورصوبائی ٹیکس اورلیوی کےمعاملات نیب کےاختیارمیں نہیں رہیں گے۔مسودے کے مطابق ٹیکس سے متعلق انکوائریز کے اختیارات متعلقہ حکام اور وزارتوں کے حوالے کیے جائینگے۔ ٹیکس اورلیوی کے معاملات نیب عدالتوں سے فوجداری عدالتوں کومنتقل کردیے جائینگے۔مسودے کے مطابق ٹیکس اورلیوی کےمعاملات کے لین دین کا عوامی عہدہ رکھنے والوں سے تعلق نہیں ہوگا۔ مالی فائدہ لینے کے سوا حکومتی منصوبے یا اسکیم میں ضابطے کے نقائص عوامی عہدہ رکھنے والے پرلاگو نہیں ہونگے۔مسودے کے مطابق رپورٹ دینے پرعوامی عہدہ رکھنے والے کیخلاف کارروائی نہیں ہوگی، جب تک مالی فائدے کے ثبوت نہ ہوں۔ذرائع کے مطابق مسودے کی کاپی اپوزیشن جماعتوں کو دے دی گئی ہے۔ مجوزہ مسودہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کے سامنے پیرکو پیش کیا جائے گا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرپشن فری پاکستان سب کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن 10 سال تک نیب قوانین میں بہتری نہیں لاسکیں،حکومت نیب قانون میں تبدیلی کے لیے تیارہے، وزیراعظم کے حکم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر قومی نوعیت کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے،ایف اے ٹی ایف کے 8 قوانین پرلا، فنانس منسٹری کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ملتان میں پریس کانفرنس کرتےہوئےشاہ محمود قریشی نےکہاکہ اپوزیشن نے نیب کے قانون پر اپنے تحفظات کا ذکر کیا ، دس سال پیپلزپارٹی اور ن لیگ حکومت میں رہی،10 سال ان کے پاس موقع اور اختیار بھی تھا کہ وہ نیب قانون میں بہتری لاسکتے تھے لیکن نہ لاسکے،بھارت کی پوری کوشش ہے پاکستان کوبلیک لسٹ میں دھکیلے، گرے لسٹ ہمیں پچھلی حکومت سے ملی، وہاں سے نکلنے کے لیے قانون سازی درکار ہے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے8قوانین پرلا،فنانس منسٹری کے ساتھ مشاورت کی ہے،ہم نےمنی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کو روکنے کے لیے 8 بل تیار کیے ہیں،ان میں سے ایک بل نیب قانون سے متعلق بھی ہے،تمام بل اپوزیشن کو بھیج دیے ہیں،پیر کو شام 5 بجے اس بل سے متعلق بیٹھ کر گفت و شنید کریں گے، کرپشن فری پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے، ہماری ایسی نیت نہیں کہ ہم اسے وچ ہنٹنگ کے لیے استعمال کریں، دیکھتے ہیں پیر کو نشست میں کیا پیش رفت ہوتی ہے؟۔