پی آئی اےکی پروازیں ایک دفعہ پھر سے بحال ، فضائی آپریشن کب سے شروع ہو رہا ہے ؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی ایئرلائن پی آئی اے نے اگست میں ترکی کیلئے فضائی آپریشن شروع کرنے کا چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے اگست میں ترکی کیلئے پروازوں کا آغاز کرنے جارہی ہے، انقراء میں پاکستانی سفیر کو خط ارسال کیا ہے کہ پروازوں کے شیڈول کلیئرنس کی منظوری

میں مدد فراہم کرے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے انقراء میں پاکستانی سفیر کو خط ارسال کیا ہے جس میں پی آئی اے نے فضائی آپریشن کیلئے پاکستانی سفارتخانے سے مدد مانگی ہے۔خط میں کہا گیا کہ پی آئی اے اگست میں ترکی کیلئے پروازوں کا آغاز کرنے جارہی ہے۔ سفارتخانہ پروازوں کے شیڈول کلیئرنس کی منظوری میں مدد فراہم کرے۔ پی آئی اے نے ترک ایئرلائن پیگا سس سے معاہدہ کیا۔یہ معاہدہ کمرشل پروازوں کے کوڈ شیئرنگ سے متعلق ہے۔ کورونا کی وجہ سے کوڈ شیئرنگ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ دوسری جانب حکومت پی آئی اے سے یورپ کیلئے فضائی پابندی ہٹانے کیلئے متحرک ہوگئی ہے۔پی آئی اے نے یورپی یونین سیفٹی ایجنسی کے لیے اپیل کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں یورپی یونین کو پی آئی اے پر پابندی کا فیصلہ بدلنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اپیل کا مسودہ یورپی یونین سیفٹی ایجنسی کے سیفٹی انڈیکس کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے۔ مسودے میں بتایا گیا کہ2007ء میں جب پی آئی اے کا ہیزرڈ سیفٹی انڈیکس 3.7 کی سطح پر پہنچا تو اس وقت بھی یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی لگائی لیکن یہ پابندی 2009ء میں بحال کی گئی تھی۔جب فضائی پابندی ہٹائی گئی تو اس وقت انڈیکس0.67 کی سطح پر لایا گیا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت پی آئی اے کا بہترین سیفٹی انڈیکس0.61 پر ہے، کیونکہ موجودہ حکومت نے انڈیکس کیلئے مربوط نظام تشکیل دیا ہے۔ واضح رہے یورپین یونین ائیرسیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کا فضائی آپریشن اجازت نامہ 6 ماہ کیلئے معطل کردیا تھا۔ جس پر پی آئی اے نے بھی یورپ کیلئے تمام پروازیں عارضی طور پر مسنوخ کردی تھیں۔یکم جولائی 2020 کو رات 12بجے یوٹی سی ٹائم کے مطابق معطل کی گئیں۔ یورپی یونین کے ہوا بازی و ٹرانسپورٹ کے ترجمان اسٹیفن کیر ماخرنے کہا تھا کہ پی آئی اے پر حالیہ پابندی لگانے کی وجہ وزیر ہوابازی کا بیان ہے۔ پی آئی اے سے اڑھائی سال پہلے یورپی فضائی معیارات پر بات شروع کی۔ لیکن پی آئی اے یورپی ایجنسی کو ایئرلائن سیفٹی پر مطمئن نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اس بات پر بھی یورپی ایجنسی کو مطمئن نہیں کرسکی کہ وہ بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتی ہے۔ یورپی ایجنسی کی ایڈوائس پر پی آئی اے پر پابندی لگائی گئی ہے۔