وزیر اعظم کی عامر لیاقت سے ملاقات! پی ٹی آئی رہنماء کا استعفیٰ منظور کیا جائے گا یا نہیں؟ عمران خان نے فیصلہ سُنا دیا

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رُکن اسمبلی عامر لیاقات کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات، ملاقات میں کراچی کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی گئی، وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی فیصلہ سنا دیا کہ عامر لیاقت کا استعفیٰ قبول کرنا ہے یا نہیں،۔ تفصیلات کے مطابق عامر لیاقت نے وزیر

اعظم عمران خان سے ملاقات کا احوال سنانے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا سہارا لیا، اپنے پیغام میں عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ ’’وزیر اعظم عمران خان سے طویل ملاقات، 4صفحات پر مشتمل استعفی مستردکردیا،اس پر بات نہیں ہوگی اپنا دل کھول کر وزیراعظم کے سامنے رکھا، انہوں نے کراچی کےمسائل پر آواز بلند کرنے کو سراہااور کہا یہی ایک سیاسی سوجھ بوجھ اور عوام کا درد رکھنے والے منتخب رہنما کا کردار ہوناچاہیے‘‘۔

ایک اور پیغام میں عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھے کہا ’’تم تحریک انصاف کا اثاثہ ہو،کچھ چھوڑنے کی ضرورت نہیں، تمہاری ضرورت ہے، ہم نے مل کر پاکستان کو فلاحی ریاست بناناہے، اپنے حلقے اور کراچی کے لیے تمہاری آواز کی قدر کرتا ہوں، وہ تمہاری نہیں پی ٹی آئی اور میری آواز تھی،مجھے خوشی ہے کہ عامر تحریک انصاف میں ہے ‘‘۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’’جمہوریت میں پارٹی سے مسائل کے لیے اٹھنے والی آوازیں جو نظم و ضبط میں ہوں وہ پارٹی کو آکے لے کر جاتی ہیں ،خوش ہوں کہ تم نے کراچی کی آواز بن کر م سب کی توجہ مبذول کرائی تم جانتے ہو اور تم نے کہا بھی کہ میں کراچی کا ہر مسئلہ اپنا مسئلہ سمجھتا ہوں، ان شا اللہ سب حل ہوجائے گا‘‘۔

وزیر اعظم کا عامر لیاقت سسے کہنا تھا کہ ’’بجلی،پانی اور بہترین زندگی پاکستان اور بالخصوص کراچی کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق ہم اس کو دیں گے، عامر، مسائل بہت ہیں، تم ایک سیاسی ذہن رکھنے والے دوست ااور ہارٹی رہنما ہو،تمہیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ذمے داریوں سے تمہیں منہ نہیں موڑنے دوں گا، ساتھ ہواور رہوگے‘‘۔

وزیر اعظم نے عامر لیاقت کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ’’تم نے جتنے مسائل کا ابھی ذکر کیا ہے کے الیکٹرک، پانی اور سیوریج، ترقیاتی منصوبے،رکے ہوئے کام، یہ سب کچھ میرے علم میں ہےاورکراچی میرے لیے سب سے اہم شہر ہے، مجھے یاد ہے تم نے کہا تھا ہم کلین سوئپ کریں گے اور ہم نے کیا، اب ہم مسائل کو کلین سوئپ کریں گے‘‘۔