کورونا اور عمران حکومت ایک جیسی چیز ، کیونکہ ۔۔۔۔ سلیم صافی کا انتہائی متنازعہ تبصرہ سامنے آگیا

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ایک وائرس ہے انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہے پی ٹی آئی تبدیلی کے نعرے کے ساتھ بننے اور اقتدار میں آنے والی انسانوں پر مشتمل جماعت ہے لیکن اثرات اور نتائج کے حوالے

سے دونوں میں کچھ مماثلت پائی جاتی ہیں مثلاً اس وقت کورونا دنیا اور پی ٹی آئی پاکستان پر راج کر رہے ہیں۔کورونا ایک نیا وائرس تھا جس کو آج تک سمجھنے کی کوشش جاری ہے اسی طرح پی ٹی آئی کی پالیسیز کو سمجھ نہیں پارہے کورونا کی خاصیت یہ ہے کہ وہ روز شکل بدلتا ہے اورپی ٹی آئی میں بھی ہر آنے والے دن میں نئی نئی پالیسیز چلی جاتی ہیں۔کورونا نے جو سلوک عالمی معیشت کے ساتھ کیا اسی طرح پی ٹی آئی نے وہی سلوک پاکستانی معیشت کے ساتھ کیا۔کورونا ضعیف لوگوں کے لیے موت کا پیغام دوسرے طبقے نسبتاً محفوظ رہتے ہیں اسی طرح پی ٹی آئی کی حکومت میڈیا اور کئی اداروں کے لیے موت کا پیغام جب کہ کچھ اداروں کو چھیڑنے کے بجائے مزید طاقتور بنا رہی ہے۔ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ کورونا صرف جان کے لیے خطرہ ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اپنے نقادوں سیاسی مخالفین کی جان نہیں بلکہ عزت کے لیے خطرہ ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد تقریباً دو لاکھ 57 ہزار جب کہ سرکاری اعدادو شمار ہی کے مطابق پانچ ہزار چار سو چھبیس اموات ہوئی ہیں ۔اب تماشہ یہ ہے کہ ٹیسٹ کم ہو رہے ہیں اور مریضوں میں اسپتالوں سے رجوع کرنا کم کر دیا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی طرف سے دعویٰ ہو رہے ہیں کہ کورونا سے متعلق اس کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہو رہی ہے اور ان دعوؤں کی وجہ سے لوگ غیر محتاط ہونے لگے ہیں ۔ ریڈ کراس انٹرنیشنل نے کل ہی متنبہ کیا ہے پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کورونا کے لحاظ سے سب سے خطرناک صورتحال سے گزر رہے ہیں اور اگست میں پیک سامنے آئے گا جس کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کورونا کو ایک دن کے لیے بھی سنجیدہ نہیں لیا۔حکومت نے اپنی معیشت کی ناکامی کو بھی کورونا کا نام دے دیا ہے ۔کورونا کے قالین تلے جہاں معیشت کا مسئلہ دبا دیا گیا ہے وہاں کشمیر کا مسئلہ بھی دب گیا ہے عمران خان کی ناتجربہ کار حکومت نے مودی کے ارادوں کا غلط اندازہ لگا کر ان سے اچھائی کی توقعات وابستہ کیں تھیں اور امریکہ کی پوزیشن کا غلط اندازہ لگا کر ٹرمپ پر حد سے زیادہ اعتماد کیا۔