پی ٹی آئی حکومت کی بڑی کامیابی: تجارتی خسارے میں بڑی کمی ۔۔۔ پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مالی سال 2019،20 کے آخری مہینے (جون 2020) میں تجارتی خسارہ کم ہو کر 2 ارب 12 کروڑ ڈالر رہ گیا۔ادارہ شماریات کی جانب سے مالی سال 2019/20 کے اعداد و شمار جاری کردیے گئے جس کے مطابق ایک سال میں تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے کم ہو کر 23 ارب 18 کروڑ

ڈالر رہ گیا۔ تجارتی خسارے میں 10 ارب ڈالر یعنی 27 اعشاریہ 11 فیصد کمی آئی ہے۔پاکستان کی درآمدات میں 18 اعشاریہ 61 فیصد کمی ہوئی اور یہ جولائی 2019 سے جون 2020 تک 44 ارب 57 کروڑ ڈالر رہیں۔ اسی عرصے کے دوران پاکستان کی برآمدات 21 ارب 38 کروڑ ڈالر رہیں ۔ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2019/20 کے آخری مہینے (جون 2020) کے دوران تجارتی خسارہ 2 ارب 12 کروڑ ڈالر رہ گیا۔ گزشتہ مالی سال کے آخری مہنے میں برآمدات 6 اعشاریہ 52 فی صد کم ہوئیں۔ جون میں برآمدات 1ارب 59کروڑ ڈالر پر پہنچ گئیں۔ درآمدات 14اعشاریہ 66 فی صد کم ہو کر 3 ارب 71 کروڑ ڈالر ہوگئی ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب نے اپنے قیام سے اب تک 466.069ارب روپے بدعنوان عناصرسے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ،نیب کی توجہ بدعنوانی جیسے منی لانڈرنگ ،بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکہ دہی کے واقعات ، بینک فراڈ ، جان بوجھ کر بینک قرض نادہندگی، اختیارات کا غلط استعمال اور سرکاری فنڈز کے غبن پر مرکوزہے۔ پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلی ادارہ نیب دنیا کا واحد ادارہ ہےجس کے ساتھ چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی نگرانی کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ان خیالات کا ظہار انہوں نے نیب کی مجموعی کار کردگی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ کرپشن کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت پاکستان میں فوکل ادارہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ، نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔جو کہ آگاہی ، تدارک اور انفورسمنٹ کی انسداد بدعنوانی کی قومی حکمت عملی کے مطابق ہے۔