عمران خان چھا گئے ۔۔۔ 8 ممالک سے اتحاد ہو گیا چین بنگلہ دیش سمیت کون کون سے ملک شامل ہیں ؟ دل خوش کر دینے والی اعلیٰ سطح کی تفصیلات جاری

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے بارے میں پہلی بار ہونے والی غیر سرکاری آن لائن کانفرنس میں آٹھ ممالک کے نمائندوں نے کورونا وائرس کے بحران کے باعث معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے قریبی تعاون کو فروغ دینے اورعالمی باہمی انحصار کی ضرورت پر اتفاق

کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ COVID-19 کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کریں گے۔گوادر پرو کے مطابق پاک چین انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) کے زیر اہتمام اس کانفرنس میں آٹھ ممالک پاکستان، چین، نیپال، افغانستان، بنگلہ دیش، قازقستان، میانمار اور سری لنکا نے شرکت کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ بی آر آئی مستقبل کی ر ہداری ہے کیوں کہ یہ پورے خطے کو جوڑتا ہے انہوں نے بی آر آئی کے اہم کردار کو اجاگر کیا، جن میں سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ یہ عام مسائل خاص طور پر کوویڈ 19 کے بعد کی صوتحال سے نمٹنے کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو برابری کے اصولوں کی بنیادوں پر جوڑنے کیلئے بی آر آئی مستقبل کی ر ہداری ہے سی پیک کو بی آر آئی کامیابی کی کہانی‘ کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ نام نہاد ’قرضوں کے جال‘ کے بارے میں پروپیگنڈے کو شرکاء نے مسترد کردیا کیونکہ پاکستان اور سری لنکا کے معاملے میں چین سے مجموعی قرض دوسرے ممالک یا کثیرالجہتی اداروں پر واجب الادا ہے اس پر بہت ہی کم شرح سود ہے۔ کسی بھی ملک کیخلاف کورونا وائرس کی افواہوں کو رد کیا، بی آر آئی کو جیو پولیٹیکل بنیادوں پر نشانہ بنا نے اوربدنام کر نے بھی مسترد کردیا۔ چیئرمین پاکستان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ سینیٹر مشاہد حسین نے اپنے خطاب میں بی آر آئی کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا اور اہم سفارتی اور ترقیاتی اقدام قرار د یتے ہوئے کہا کہ سی پیک کامیابی کے ساتھ دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شیڈول کے مطابق مکمل ہوچکے ہیں،

75000 پاکستانیوں کو بی آر آئی منصوبوں میں ملازمت ملی ہے اور 28000 پاکستانی طلباء چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہوں نے COVID-19 بحران کے دوران چین کی پاکستان کیلئے خدمات کو بھی سراہا اور انہوں نے 12 ستمبر اور 14 مئی کو پاکستان سینیٹ کی طرف سے منظور کی جانے والی دو قراردادوں کا ذکر کیا، جس میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے چین کے کردار اور حمایت کو سراہا۔ پاکستان اور چین میں افغانستان کے سابق سفیر، جانان موسی زئی نے، بی آر آئی میں افغانستان کے کردار کے لئے ایک مخصوص پانچ نکاتی منصوبہ دیا اور انہوں نے سی پیک کا بھی حوالہ دیا، چونکہ افغانستان رابطے کے لئے زمینی پل ثابت ہوسکتا ہے اور انہوں نے کہا کہ چین مارکیٹ مہیا کرنے میں سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ بنگلہ دیش، قازقستان، اور میانمار نے اپنے ملکوں کے متعلقہ کردار کو بی آر آئی کے ایک حصے کے طور پر حوالہ دیا اور بتایا کہ ان ممالک اور چین کے مابین اعلی منصوبوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ مختلف منصوبے کس طرح شروع کیے جارہے ہیں۔نیپال سے میڈیا لیڈر، شوبھا شنکر قندیل نے بھی یہ بتایا، کہ کس طرح بی آر آئی کے ذریعے، سلک روڈ ممالک زمینی سے سے کیسے آپس میں منسلک ہو سکتے ہیں، اور انہوں نے سری لنکا سے ایڈمرل پروفیسر جیاناتھ کولمبیج کے بی آر آئی میں کردار کا خیرمقدم کیا۔ پروفیسر جیاناتھ نے حقائق اور اعداد و شمار کے حوالہ سے سری لنکا کے بارے میں ”قرض ٹریپ“ تھیوری کا آغاز بھی کیا، سری لنکا کے زمہ کل غیر ملکی قرضوں میں سے صرف 10 فیصد چین کا قرض واجب الادا تھا،انہوں نے یہ بھی انتباہ کیا کہ بحر ہند میں قریب 120 جنگی جہازوں کے ساتھ، یہ‘دنیا کا سب سے زیادہ عسکری سمندر’بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے ممالک کو خوراک اور ادویات کی حفاظت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ چین کے سابق نائب وزیر آیی پنگ نے عوام سے رابطے کے بارے میں بات کی اور انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ COVID 19 بحران کے دوران، چین کی 60 این جی اوز نے 40 آن لائن پروگراموں کا اہتمام کیا جس کا مقصد باہمی تعاون پر مبنی معلومات اور تجربات کو بانٹنا ہے۔ پروفیسر ہوانگ یی اور کلیان راج شرما نے اپنی پیش کشوں میں بھی اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قوم یا ثقافت یا ملک کو بدنام کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن کو نقصان پہنچائے گی۔