’’ ریلوے میں پہلے ہی77ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں، شیخ رشید نئے ملازمین ۔۔۔ ‘‘ ریلوے خسارے ازخود نوٹس، چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکرٹری ریلویز کی سرزنش کرتے ہوئے کیا کہا؟ جانیئے کمرہ عدالت کا احوال

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ ریلوے کے پہلے ہی ستتر ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں، وفاقی وزیر نے جو اعلان کیا ہے اس کے مطابق اتنے لوگوں کو اتنی نوکریاں کیسے دی جائیں گی؟ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریلوے خسارہ

ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، عدالت عظمیٰ بھی وزیرریلوے شیخ رشید کے بھرتیوں کے بیان پر حیرت کا اظہار کردیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے دورانِ سماعت ریمارکس دیئے کہ ریلوے کے پاس پہلے ہی 77 ہزار ملازمین ہیں، نئے ملازمین کہاں بھرتی کریں گے؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ شیخ رشید سے شاید الفاظ کے انتخاب میں غلطی ہوگئی۔چیف جسٹس نے سیکرٹری ریلویز کی سرزنش کرتے ہوئے کہا سیکرٹری صاحب آپ سے ریلوے نہیں چل رہی، ریلوے کے سیکرٹری، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے۔خیال رہے ۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید نے کہا کہ شہباز شریف جس کام کے لیے لندن گئے ہیں انہیں وہ کرنے دیں، مریم نواز اور شہباز شریف کے خلاف سنجیدہ کیسز آنے والے ہیں، شہبازشریف میری پارٹی کے آدمی ہیں جب میں کہوں تب ہی واپس آئیں اور اگر وہ واپس آنا چاہتے ہیں تو اسلام علیکم۔ یہ سارے لوگ سوچ سمجھ کر ہی باہر گئے ہیں، میں نے کہا تھا کہ تابوت بھی یہیں سے نکلے گا اور ثبوت بھی، نواز شریف نہیں آرہے اور مریم نواز فی الحال اپنے والد کے پاس نہیں جارہیں۔ وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ بہت ساری افواہیں چل رہی ہیں لیکن کچھ نہیں ہوگا، پہلے ہی کہا تھا کہ آرمی ایکٹ سے متعلق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) تعاون کرے گی، نیب آرڈیننس پر بھی پردے کے پیچھے تعاون جاری ہے، امید ہے الیکشن کمشنر کے معاملہ بھی اتفاق رائے سے حل ہوگا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بہت بڑی تعداد میں ریلوے ملازمین کی ریٹائرڈ ہونے جار ہے ہیں، ریلوے پاکستان کا وہ واحد محکمہ ہے جس میں 25000 نوکریاں نکلنے لگیں ہیں اور رواں ماہ مارچ میں تقریباً 1 لاکھ نوکریاں نکلیں گی اور اتنی بڑی تعداد اس لئے نکلنے والی ہے کیونکہ ریلوے کے ملازمین بڑی تعداد میں ریٹائرڈ ہونے والے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ میں عمران خان کا اتحادی ہوں پی ٹی آئی کا ترجمان نہیں، جب تک عمران خان عثمان بزدار کے ساتھ ہیں میں بھی ساتھ ہوں، فواد چوہدری بڑے آدمی میں ہیں، ان میں ہمت ہے اسی لیے انہوں نے سب کے سامنے یہ بات کہہ دی۔ مہنگائی اور آٹے کے بحران پر وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف ایک مجبوری ہے، گیس نہیں ہے اور آٹا بھی مہنگا ہے لیکن عمران خان کے علاوہ آپشن نہیں، عمران خان کے علاوہ کوئی متبادل نہیں، مہنگائی ختم کرنے کے لیے ہمیں 3 سال کا وقت دیں جن میں سے ڈیڑھ برس گزر گیا ہے۔