عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کرنے پر غور شروع کر دیا

لاہور (نیوز ڈیسک ) معروف صحافی و اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں ، اپوزیشن کی جانب سے جو مائنس ایک سو ساٹھ کا تذکرہ کیا جا رہا ہے اس میں سارا نظام لپیٹ دیا جائے گا، صرف پی ٹی آئی کے

لوگ فارغ نہیں ہونگے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام مین گفتگوکرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ یہ سسٹم گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جو اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اب مائنس ایک یا دو نہیں بلکہ ایک سو ساٹھ یعنی سب ہی فارغ ہونگے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ اب صرف پی ٹی آئی کے لوگ نہیں بلکہ سب ہی فارغ ہونگے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پی ٹی آئی کے لوگ جائیں اور یہ لوگ بیٹھے رہیں، اب عمران خان نے بھی سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں ۔خیال رہے کہ پاکستان (ن) لیگ کے مرکزی رہنماء شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ہم اس بات یقین رکھتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، مائنس ون نہیں چاہتے، اب ہوا تو مائنس 160 ہوگا ، ہم حکومت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں شاہدخاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جو کبھی ٹیکس نہیں دیتا تھا وہ بھی آج بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھا ہے، عمران خان مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اب انہیں گھر جانا ہوگا، اس ملک پر حکومت اور عمران خان کا ایک لمحہ بھی بھاری ہے، کسی بھی غیر جمہوری طاقت کو آگے نہیں آنے دیں گے، ملک میں پٹرو ل کا جو بحران پیدا کیا گیا اس پر کوئی پوچھ گیچھ کرنے والا نہیں ہے، لوگوں نے اربوں روپے کما لیے، جو ملک کے لیے کام کرتے تھے

اُنہیں آج عدالتوں میں دھکے کھانے پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ اب شہباز شریف وہی کریں گے جو مُقتدار حلقے اُنہیں کہیں گے، شہباز شریف کو اس وقت متحرک ہونے کی ضرورت ہے، اب انکے پاس متحرک ہونے کے 2 طریقے موجود ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار عمران یعقوب نے دعویٰ کیا کہ اب شہباز شریف وہی کریں گے جو مُقتدار حلقے اُنہیں کہیں گے، شہباز شریف کو اس وقت متحرک ہونے کی ضرورت ہے، اب انکے پاس متحرک ہونے کے 2 طریقے موجود ہیں، یا تو وہ بھی عوام کو ساتھ ملائیں اور سڑکوں پر آجائیں ، یا پھر پارلیمان کے اندر متحرک ہو کر حکومت کو ٹف ٹائم دینا شروع کر دیں ، میری مبارکباد شہباز کے ساتھ ہے کہ اللہ نے اُنہیں صحت دی ، انہوں نے کورونا کو شکست دے دی ہے، لیکن اب اپوزیشن کو اپنی پرفارمنس سے توجہ ہٹانی ہوگی اور کاکردگی پر توجہ دینی ہوگی، ماضی میں نواز شریف اپنے ہی بھائی شہباز شریف کو ٹرک کی بتی کی طرح استعمال کرتے رہے، لیکن اب صورتحال ماضی سے بہت بدل چکی ہے، اب شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کا کہا نہیں مانیں گے بلکہ وہ کریں گے جو مُقتدر حلقے اُنہیں کہیں گےکیونہ شہباز شریف کی طاقتور حلقوں کے ساتھ اچھی بات چیت ہے، شہباز شریف اب رنجشیں دور کرانے میں پُل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، شہباز شریف کو چاہیئے کہ وہ انتظار کریں اور جب انکی ضرورت ہو وہ خود کو پیش کر دیں۔