پنجاب بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ۔۔۔ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کر دی گئی

لاہور(ویب ڈیسک) بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ پچھاڑ کا عمل جاری، حکومت پنجاب نے 4 محکموں کے سیکرٹریز تبدیل کردیئے۔پنجاب حکومت کی جانب سے سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد رحمان گیلانی کا تبادلہ کرکے سیکرٹری فوڈ تعینات کردیا گیا ہے۔ سیکرٹری سروسز شہریار سلطان کو سیکرٹری ٹرانسپورٹ تعینات کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد شعیب اکبر کی بطور سیکرٹری

سروسز تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ سیکرٹری فوڈ وقاص محمود کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ محکمہ ایس اینڈ جی ڈی اے کی جانب سے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔دوسری جانب دو اعلیٰ افسران کے تقرروتبادلے کے احکامات جاری کردیئے۔ چیئر پرسن ایف بی آر نوشین جاوید امجد کو ہٹا کر محمد جاوید غنی کو چیئرمین ایف بی آر کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ جاوید غنی پاکستان کسٹمز سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں۔محمد جاوید غنی ممبر ایف بی آر ہیڈکوارٹر بھی تعینات ہیں۔محمد جاویدغنی کو تین ماہ کیلئے چیئرمین ایف بی آر کا اضافی چارج دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کی چیئرپرسن شپ سے فارغ ہونیوالی نوشین جاوید امجد کو سیکرٹری نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن تعینات کردیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدارکی فرودس مارکیٹ انڈر پاس منصوبے کو مقررہ وقت سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت،کہتے ہیں کہ منصوبے کو جلد مکمل کر کے شہریوں کو آمدورفت میں سہولت مہیا کریں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فردوس مارکیٹ انڈرپاس منصوبے کا اچانک دورہ کیا۔وزیر اعلیٰ خود گاڑی چلا کر سائٹ پر پہنچے اور تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔وزیر اعلیٰ نے سائٹ پر تعمیراتی کام کا معائنہ کیااور منصوبے پر کام کرنے والوں سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سےسنٹر پوائنٹ گلبرگ سے ایم ایم عالم روڈ اور کیولری گراؤنڈ کی طرف جانے والی ٹریفک کو بے پناہ سہولت ملے گی۔یہ دورویہ انڈرپاس 540میٹرطویل اور دونوں طرف سے دودو لینز پر مشتمل ہوگا، حکومت نے شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے تعمیراتی لاگت میں 13کروڑ روپے کی خطیر رقم کی بچت کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے منصوبوں کی طرح لاہور کے اس اہم منصوبے پر پیشرفت کی خود نگرانی کررہا ہوں، تعمیراتی کاموں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے جلد دوبارہ آؤں گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں قومی وسائل کو بے دردی سے ضائع کیا گیا،ہم قومی وسائل کی پائی پائی کے امین ہیں۔