عزیر بلوچ کا 10 صفحات پر مشتمل اقبالی بیان منظرعام پر، ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا

کراچی(ویب ڈیسک) فریال تالپور ، آصف زرداری ، نثار مورائی، سینیٹر یوسف میمن ، عبدالقادر پٹیل ، شرجیل میمن نے کس کس کو کب اور کیسے قتل کروایا ، رینجرز پر کب کب حملے کیے گئے؟ عزیر بلوچ نے اپنے آقاؤں کے جرائم کو بے نقاب کر دیا ، عزیر بلوچ نے 164 کے اقبالی بیان میں کیا کچھ اعتراف کیا؟سینئر اینکر پرسن طارق متین نے تہلکہ خیز انکشافات کر ڈالے

اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ویڈیو میں طارق متین کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ نے جج کے سامنے 10 صفحات پر مشتمل تحریری انکشا ف کیے ہیں.ان کا کہنا ہے کہ وہ سال 2003 میں رحمٰن ڈکیت کی گینگ میں شامل ہوا پہلی دفعہ جب جیل گیا تو یوسف منگن اور فیصل رضا عابدی کے کہنے پر پیپلز پارٹی میں شامل ہوا۔ اس 10 صفحات کے بیان میں پہلے صفحے پر ہی اس کا کہنا ہے کہ جب رحمٰن ڈکیت مارا گیا تو اس نے کراچی لیاری گینگ وارکا سربراہ بنا دیا گیا اور پیپلز امن گروپ کے نام سے مسلح گروپ بنایا گیا یہ وہی گروپ ہے جس کا نام ذوالفقار مرزا بڑے فخر سے نام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ انہوں نے اسلحہ کئ لائسنسز دیے ہیں اور کس لیے دیے تھے یہ بھی وہ دعویٰ کرتے تھے عزیر بلوچ بتاتا ہے کہ 2008 سے 2012 تک اس نے اسلحہ خریدا یہ اسلحہ اس نے توکل سے سلیم پٹھان سے اور کوئٹہ اور پشین کے علاقوں سے اس اسلحہ کو جلسوں میں اور پڑتالوں کی کامیابی میں استعمال کیا گیا ۔ جبکہ دوسرے پیج پر وہ کہتا ہے کہ اس نے لیاری کے جووں کے اڈوں کی سرپرستی کی جب کہ جس علاقے میں کام کرنا ہوتا وہاں پولیس آفیسر بھی اپنی مرضی کے لگوائے جو اسے اور اس کی گینگ کو حفاظت مہیا کرتے تھے ، اس کے علاوہ پھتہ اکٹھا کرنے کے لیے اس نے مختلف گروہ بنائے جو اس کے حکم پر کارروائی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ فریال طالپور کتنا بھتہ لیتی تھی؟ اور اس کے ساتھ کون کون سے ساتھی شامل تھےان کے نام بھی بتائے جو کہ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے آپ پوری ویڈیو دیکھ سکتے ہیں :