سپریم کورٹ میں کراچی بحریہ ٹاؤن کیس کی سماعت۔۔!! ملک ریاض نے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس میں کتنے ارب روپے جمع کرادیئے؟

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں کراچی میں بحریہ ٹاون کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت گزشتہ روز ہوئی جس دوران عدالت نے زیادہ اراضی پر مبینہ طور پر قبضے سے متعلق شکایات کا نوٹس لیا۔ ملک میں رہائشی منصوبوں کی سب سے بڑی تعمیراتی

کمپنی بحریہ ٹاؤن سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے تین ججوں پر مشتمل بنچ کی سربراہی جسٹس فیصل عرب کر رہے ہیں۔عدالت نے بحریہ ٹاؤن سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور زمین کا دوبارہ سروے کروانے کے معاملات پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ معزز جج نے کہا ہے کہ وہ نجی رہائشی سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی طرف سے کراچی میں متعین کردہ حد سے زیادہ اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کے بارے میں سروے آف پاکستان سے نئی رپورٹ پیش کرنے کا کہیں گے۔معزز جج نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں سپریم کورٹ میں کتنی رقم جمع کروائی ہے جس پر بحریہ ٹاون کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں اب تک 57 ارب سے زائد رقم جمع کرائی جا چکی ہے، ان کے موکل نے اقساط کے علاوہ ایڈوانس رقم جمع کرائی ہے۔بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سے استفسار کیا کہ انہوں نے رقم اقساط سے زیادہ کیوں جمع کرائی ہے جس کے بارے میں بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر کوئی وضاحت نہ دے سکے۔بحریہ ٹاون کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے کورونا کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے درخواست دی ہے کہ ریلیف دیا جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ یہ بات قبل از وقت ہے۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر خبریں آ رہی ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے مقررہ زمین

سے زیادہ زمین اپنے پاس رکھی ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کو 16 ہزار 8 سو 96 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی اور یہ اراضی مکمل طور پر بحریہ ٹاؤن کے حوالے نہیں کی گئی۔عدالت نے بحریہ ٹاؤن سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور زمین کا دوبارہ سروے کروانے کے معاملات پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ عدالت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس مقرر کردہ زمین سے زیادہ زمین ہے یا نہیں۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے استدعا کی کہ اگر سپریم کورٹ سروے کرانے کا حکم دیتی ہے تو اس میں وفاقی اداروں کو شامل کیا جائے۔ بحریہ ٹاؤن کی طرف سے جمع کرائی گئی رقم آرٹیکل 78 کے تحت وفاق کو دی جائے اور عدالت میں اس حوالے سے درخواست پہلے ہی جمع ہے۔سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ جب بھی صوبہ اپنی زمین فروخت کرتا ہے تو اس سے ہونے والی آمدن پر صوبے کا ہی حق ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں سیکریٹری پلاننگ کی موجودگی سمجھ سے باہر ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت فیصلہ کرتے وقت سندھ کے نکتے کو سامنے رکھے گی۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ آئے روز شرح سود گرتا جارہا ہے اس لیے عدالت کی یہ خواہش ہے کہ اس پیسے کا درست انداز میں استعمال ہو۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کی طرف سے حاصل شدہ رقم جاری منصوبوں پر استعمال نہیں ہو سکتی یہ اصول وفاق اور صوبے پر بیک وقت لاگو ہوگا۔