خواجہ آصف کا کپتان کو مذہب کو آڑ میں طعنہ دینا مہنگا پڑ گیا! ’’یہ خود امریکہ میں پینٹ کوٹ پہن کر اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں،اور کہتے ہیں ہمیں بچاؤ۔ ‘‘ وزیراعظم نے خواجہ جی کی تاریخی چھترول کرڈالی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے پاکستان سٹاک ایکسچینج حملے میں بھارت ملوث ہے ، اپوزیشن والے مجھے مائنس کرکے این آراو لینا چاہتے ہیں۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا پاکستان سٹاک ایکسچینج حملے میں بھارت ملوث ہے ،کوئی شک نہیں سٹاک ایکسچینج پرحملے کامنصوبہ بھارت میں بنا۔

بھارت نے پاکستان کوغیرمستحکم کرنے کامنصوبہ بنایا۔ممبئی میں جو دہشتگردی ہوئی تھی اسی طرح کا پلان تھا۔ دہشتگرد پاکستان میں عدم استحکام پیداکرناچاہتے ہیں۔دہشتگردوں کا منصوبہ سٹاک ایکسچینج ملازمین کویرغمال بناناتھا،شہدانے بہادری سے دشمنوں کا منصوبہ ناکام بنایا۔ہماری ایجنسیز ہائی الرٹ پر تھیں۔ہماری ایجنسیاں 4بڑے حملے پہلے بھی روک چکیں،دوحملے اسلام آبادکے قریب ناکام بنائے ،جتنی بھی تیاری ہو حملوں کومکمل روک نہیں سکتے ، سٹاک یکسچینج حملے کے شہداکوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں،شہید حسن علی کی بہن کو پتہ چلا تو وہ بھی ہارٹ اٹیک سے چل بسی۔ وزیراعظم نے کہا پاورسیکٹر،پی آئی اے اورسٹیل ملزمیں بڑی تبدیلیاں ہوں گی۔بجٹ کی منظوری پر فنانس ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ بجٹ منظور ہونے سے ایک رات پہلے ایسا لگتا تھا حکومت جا رہی ہے ۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے فیصلے خود کرتے ہیں،مجھ پرلاک ڈاؤن کے حوالے سے تنقید کی گئی،اگرمجھ سے پوچھاجاتاتومیں کبھی سخت لاک ڈاؤن نہ کرنے دیتا،چین اور یورپ کو دیکھ کر پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کردیا گیا، لاک ڈائون کرنے والے کبھی کچی بستیوں میں نہیں گئے ، ہمارے جیسے لوگوں کو گھروں میں بند کیاجائے تو ان کا کچھ نہیں جاتا،لاک ڈاؤن میں دیہاڑی دارطبقہ متاثر ہوتا ہے ۔ کوروناایس اوپیزکے تحت معیشت کھولی،دنیابھرمیں سیاحت کے برے حالات ہیں،ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کواپنایاتاکہ معیشت چل سکے ،اللہ کا شکر ہے ہم نے وقت پر فیصلہ کرکے تعمیراتی شعبہ کھول دیا،ہمیں ابھی بھی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ،پاورسیکٹرکاساراقرضہ ماضی کی حکومتوں کاہے ۔

پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی،گیارہ سال میں دس بارپی آئی اے سربراہ تبدیل ہوئے ،سٹیل ملزپرآج ڈھائی سوارب کاقرضہ چڑھ چکا،اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں،کرکٹ ٹیم کوبھی تباہ کرناہے توکپتان بدلتے رہوٹیم تباہ ہو جائے گی، سیاسی بھرتیوں سے اداروں کوتباہ کیاگیا،اصلاحات کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ،کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والاطبقہ تبدیلی کی مزاحمت کرے گا،اصلاحات کریں ورنہ برے وقت کا سامنا کریں گے ،ہم بڑی تبدیلی کیلئے تیار ہیں۔ مافیاز کو ماضی میں حکومتیں سپورٹ کرتی رہیں،مافیازصرف شوگرانڈسٹری میں نہیں بلکہ ہرجگہ ہیں۔نوازشریف اورزرداری کی شوگرملزکیوں ہیں؟شوگرملز بلیک منی وائٹ کرنے کیلئے ہیں۔نوازشریف نے اسمبلی فلورپرکہاتھا یہ ہیں لندن فلیٹس کی دستاویزات،سپریم کورٹ میں وہ غلط ثابت ہوئیں۔نوازشریف کوکہاگیا فکرنہ کریں لوگ پانامہ کوبھول جائیں گے ۔نواز شریف کی بدقسمتی معاملہ سپریم کورٹ چلاگیا،سپریم کورٹ میں گئے توجعلی قطری خط آگیا ،ملک کاوزیراعظم دبئی کی کمپنی میں نوکری کررہاتھا،وزیرخارجہ دبئی کی کمپنی سے تنخواہ لیتارہا،کسی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا،سپریم کورٹ سے سزایافتہ شخص کو یہ لیڈرکہتے ہیں ،نظریے سے ہٹ کرچیئرمین بنے تو پھر بارش آتی ہے پانی آتاہے ۔مشرف حکومت بُری نہیں تھی جو این آراو دیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔اپوزیشن کی باتوں کوسنجیدہ نہیں لیتاکیونکہ میں ان کوجانتاہوں ،یہ لوگ باہر جاکرلبرل بن جاتے ہیں کہ ہمیں بچاوَ،

ن لیگ والوں کاکوئی دین ایمان نہیں کبھی جہادی بن جاتے ہیں کبھی لبرل،میں مغربی کلچرکوسب سے بہترجانتاہوں،جتنانقصان اس ملک کی لیڈرشپ نے پہنچایاکوئی دشمن نہیں پہنچاسکتاتھا۔خواجہ آصف سے انٹرویومیں پوچھاگیا پی ٹی آئی اور آپ میں کیا فرق ہے ؟خواجہ آصف نے کہا ہم لبرل ہیں وہ مذہبی جماعتوں کیساتھ ہیں،ہاں یہ لوگ لبرل ہیں لیکن لبرلی کرپٹ ہیں۔ وزیراعظم نے عمران خان کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ خود امریکہ میں پینٹ کوٹ پہن کر اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں۔ اپوزیشن نے پہلے دن سے مجھے تقریرنہیں کرنے دی،انہوں نے پہلے دن سے کہا حکومت فیل ہوگئی ،ان سب کوڈر ہے اسلئے یہ چاہتے ہیں حکومت جلدچلی جائے تاکہ ان کی چوری بچ جائے ،مجھے کہاگیاچینی مافیاکومشرف کنٹرول نہیں کر سکا،اپوزیشن اپنی چوری بچانے میں لگی ہوئی ہے ۔اپوزیشن صرف مائنس ون چاہتی ہے ،اگرمیں مائنس ہوبھی گیاتومیری پارٹی سے کوئی آئیگاوہ بھی این آراونہیں دے گا، کوئی انہیں نہیں چھوڑے گا،کبھی نہیں کہاکرسی مضبوط ہے ،کرسی کسی کی مضبوط نہیں ہوتی ،آج ہے کل نہیں،سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ،جبتک نظریے پرقائم ہیں حکومت اور پارٹی کوکوئی نہیں گراسکتا۔گھرکے اخراجات برداشت کرتاہوں ،تاکہ کرسی چھوڑنے کی کبھی فکر نہ ہو۔وزیراعظم نے کہاہمیشہ سے خواہش ہے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرزپرچلاوَں گا،ریاست مدینہ میں تمام انسانوں کے حقوق تھے ،ہرفورم پرپاکستان کومدینہ کی ریاست بنانے کا عزم دہرایا،جبتک نظریے اوراصول پرکھڑے رہے ہمیں کوئی نہیں ہراسکتا۔

جب تک اصلاحات نہیں کریں گے ملک نہیں چلے گا، جو قوم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے گی وہ اٹھ جائے گی۔ مشکل وقت سے نکلنے کے بعد پاکستان دنیا کیلئے مثال بنے گا۔ وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ان سے چیمبر میں ملاقات کی جس میں بجٹ 2020-21کی منظوری سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم سے احمدحسین ڈیہڑ، یعقوب شیخ ،جنید اکبر ، صالح محمد ،انور تاج ،ریاض فتیانہ اور خواتین ارکان نے بھی ملاقاتیں کیں۔ ارکان نے وزیر اعظم کو اپنے حلقوں کے مسائل سے آگاہ کرنے کے علاوہ بجٹ کی منظوری پر مبارکباد دی اور ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم نے ارکان کو مسائل کے حل کیلئے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی اورکہا پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں ، پارٹی اور اتحادیوں میں اتحاد کا نمونہ بجٹ کی منظوری میں دیکھ لیا گیا ، حکومت کی تمام تر توانائیاں اور توجہ کورونا پر قابو پانے پر مرکوز ہے ، کورونا پر قابو کے بعد ترقیاتی کام شروع کرینگے ۔وزیراعظم سے وفاقی سیکرٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے بھی الوداعی ملاقات کی ۔وزیراعظم نے ملک کیلئے ان کی خدمات کی تعریف کی اور مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پہلے مقبوضہ جموں وکشمیرپرغیرقانونی قبضہ جمانے کی بھارتی کوشش اوراب 25 ہزار ہندوستانی شہریوں کوڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجراسمیت مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب بدلنے کے تمام بھارتی حربے سراسرغیرقانونی اور جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں۔ میں نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے رابطہ کیا ہے اور میں دیگرعالمی رہنمائوں سے بھی بات کررہا ہوں۔ اس نا قابلِ قبول سمت میں بھارت کی پیش قدمی روکنا ضروری ہے کہ اس سے اہلِ کشمیرکے قانونی اوربین الاقوامی طور پرضمانت شدہ حقوق پرمزید زد پڑتی ہے اور جنوبی ایشیامیں امن وسلامتی کوشدید نقصان پہنچتا ہے ۔