عمران خان کی امیدوں پر پانی پھر گیا، (ق) لیگ نے حکومت کو زور دار جھٹکا دے ڈالا

لاہور(نیوز ڈیسک )مسلم لیگ (ق)نے وزیراعظم عمران خان کے عشائیہ میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان ق لیگ کاکہنا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کی مصروفیات کی بناپرعشائیہ میں شریک نہیں ہورہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی اور حکومتی ارکان کو وزیراعظم ہاﺅس میں عشائیہ دیاجائے

گا جس میں معاونین، مشیر بھی شریک ہیں۔بی این پی مینگل پہلے ہی عشائیہ میں شرکت سے انکار کرچکی ہے ۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے مسلم لیگ(ق)کی قیادت سے رابطہ کیا گیا اورباضابط عشائیہ میں شرکت کی دعوت دی گئی،تاہم مسلم لیگ (ق)نے وزیراعظم عمران خان کے عشائیہ میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان ق لیگ کاکہنا ہے کہ پارٹی رہنماو¿ں کی مصروفیات کی بناپرعشائیہ میں شریک نہیں ہورہے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کے اتحادی ہیں مگرعشائیہ میں شریک نہیں ہورہے،بجٹ کی منظوری کے تمام عمل میں حکومت کوووٹ دے رہے ہیں۔دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دی گئی عشائیہ کی دعوت ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ حکومتی اتحادی نہیں ہیں۔بی این پی کے رہنما جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ وزیراعظم کا عشائیہ حکومتی اتحادیوں کےلیے ہے، ان کی جماعت اب اتحادی نہیں رہی اس لیے ان کا وزیر اعظم کے عشائیہ میں شرکت کا کوئی جواز نہیں۔ اس سے پہلے یہ خبرٰن سامنے آرہی تھیں کہ اتحاد ختم کرنے کے باوجود سردار اختر مینگل کی پارٹی وزیر اعظم کی جانب سے دیئے گئے عشایئے میں شریک ہوگی تاہم ان خبروں کا ڈراپ سین اسی وقت ہوگیا جب بی این پی کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ نہ حکومت کے اتحادی ہیں اور نہ ہی اس عشایئے میں شریک ہونگے۔یاد رہےگزشتہ دنوں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کی تھی۔تحریک انصاف کی جانب سے منانے کی کوششوں پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں جانا اب میرے بس میں نہیں، حکومت سے علیحدگی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا فیصلہ ہے کسی فرد واحد کا نہیں۔