ایک اور حکومتی رہنماء اپنی ہی پارٹی سے ناراض، مستعفی ہونے کا فیصلہ

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے اپنی ہی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ راجہ ریاض کے احتجاج پر حکومتی بنچز پر بیٹھے ارکان ہکا بکا رہ گئے۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی راجا ریاض اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے اور کہا کہ ایک رات میں ہی پیٹرولیم

مصنوعات کی قیمتیں 25 روپے بڑھا دی گئیں۔راجہ ریاض نے یہ شکوہ بھی کیا کہ وہ الیکشن جیت کر آئے ہیں، انہیں حکومتی رکن ہونے کے باوجود ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے، پتا نہیں فنڈز کس کو دیئے جا رہے ہیں۔راجہ ریاض نے جذباتی ہوکر یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں پھانسی دے دیں، ہم استعفی دینے کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ راجہ ریاض جہانگیرترین کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں، شوگر مافیا کے خلاف رپورٹ آنے کے بعد راجہ ریاض جہانگیرترین کی حمایت کرتے اور حکومت پر گولہ باری کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرا م میں گفتگو کرتے ہوئے احمد حسین ڈیہڑ ن نے کہا کہ میں نے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگز میں احتجاج کیاہے ، میٹنگ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ کے ذمے لگایا اور اب وہ ملنے کا وقت ہی نہیں دے رہے ہیں ۔ یہاں پر میزبان نے بات کو کاٹا اور ایک سوال کرتے ہوئے کہا کہ ” بزدار صاحب کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ بڑے ملنگ آدمی ہیں تو وہ بھی آپ کو ملنے کا وقت نہیں دے رہے ہیں ؟ “احمد حسین ڈیہڑ نے گفتگو دوبارہ شروع کی اور دعویٰ کیا کہ ” شاہ محمود قریشی نے بزدار صاحب کو دھمکی دی ہے کہ اگر آپ نے ان سے مل کر مسئلے حل کیے تومیں یہ کردوں گا ۔“ انہوں نے کہا کہ میری جان بھی عمران خان کیلئے حاضر ہے ، اپنوں سے ہی دکھ ہوتا ہے غیروں سے نہیں ، شاہ محمود کے حلقے سے انہوں نے دووزیر بنائے ، دو پارلیمانی سیکریٹری بنا دیئے ، سات آٹھ چیئر مین بنا دیئے ہیں اور سارے فنڈز انہیں کو دے رہے ہیں ،ہم کیاکریں ، ہم لوگوں کو کیا جواب دیں ، خدا کیلئے ان لوگوں کو سارے عہدے نہ دیتے جائیں جو اپوزیشن کو گالیاں دے کر آپ کو خوش کرتے ہیں ۔احمد حسین ڈیہرکی نے کہا کہ میں تین پارلیمانی پارٹیوں کا ممبر ہوں اور تینوں سے استعفیٰ میں نے سپیکر کو جمع کراو دیاہے۔