یہ جو سبز دھرتی ہے اس کے پیچھےوردی ہے ۔۔۔ پاک فوج اپنے ملک کے لیے اب تک کتنی قربانیاں دے چکی ہے ؟ آرمی چیف نے بتا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ جب بھی دشمن کا سامنا ہوا تو پاک بحریہ قوم کی امیدوں پہ پورا اتری۔آئی ایس پی آرکے مطابق پاکستان نیوی وار کالج لاہور کے دورے کے موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نیول وار کالج پاک بحریہ کا معتبر

ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وار کالج میں مسلح افواج کے افسران سمیت دوست ممالک کے افسران کو بھی تربیت دی جاتی ہے۔پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاک بحریہ کی تاریخ جرات، بہادری اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے، پاک نیوی سمندری حدود کے دفاع سے متعلق قومی امنگوں پرہمیشہ پورا اتری ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک بحریہ نے سرحدوں کی حفاظت بھرپور انداز میں کی ہے۔اس سے قبل نیول وارکالج پہنچنے پررئیر ایڈمرل محمد زبیر شفیق کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان بھی موجود تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پہ پھولوں کی چادر چڑھائی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نصابی کتابوں میں اسمِ محمدﷺ کے ساتھ ’خاتم النبیین‘ لکھنا لازم، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور، تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی ہے کہ ملک میں تمام نصابی کتب میں اب سے محمدﷺ کے نام کے ساتھ ’خاتم النبیین‘ لازمی لکھا جائے گا، پیر کے روز قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی اور تمام پارلیمانی جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔خیال رہے کہ اس سے قبل سندھ اسمبلی میں بھی نبی کریم ﷺ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین لکھنے کو لازمی قرار دینے کی قرارداد منظور کی جاچکی ہے۔ 16 جون کو سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس میں تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی تھی جس میں نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیؐ کے نام کے ساتھ لازمی طور پر خاتم النبیین لکھنے کی سفارش کی گئی تھی جب کہ یہ قرارداد ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔محرک کا کہنا تھا کہ اللہ رب العزت نے نبوت کے دروازے بند کردیے ہیں اس لیے لازمی قرار دیاجائے کہ حضرت محمد مصطفیؐ کا نام جب اور جہاں کہیں لکھاجائے خاتم النبیین ضرور تحریر کیا جائے۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضرت محمد مصطفیؐ کے بعد نبوت کا باب بند ہوچکا ہے، انھوں نے کہا کہ سندھ میں قانون بنایاجائے کہ ہر کتاب میں خاتم النبیین لکھنا لازم ہوگا۔تحریک لبیک کے رکن مفتی قاسم فخری نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی حضورؐکا نام آئے خاتم النبیین لکھا ورپڑھا جائے، پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شمیم ممتاز نے کہا کہ حضورؐآخری نبی ہیں، آپؐ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین لکھا جائے، انھوں نے نشاندہی کی کہ دیگر صوبوں میں نویں اور دسویں جماعت کے نصاب میں خاتم النبیین کا لفظ کاٹا گیا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔اور آج قومی اسمبلی میں نصابی کتابوں میں اسمِ محمدﷺ کے ساتھ ’خاتم النبیین‘ لکھنا لازم قرار دینے کی قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔