بریکنگ نیوز: سنتھیا کی مقدمہ اندراج کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ، عدالت سے تازہ ترین اطلاعات آگئیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے

خلاف مقدمہ درج کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست کی سماعت کے دوران سنتھیا ڈی رچی کے وکیل عمران فیروز ملک عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے مقدمہ اندراج سے متعلق سیشن جج کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ اس فیصلے سے کیسے متاثر ہیں؟ یہ براہ راست مقدمہ درج کرنےکا حکم نہیں ہے، ایف آئی اے کو پہلے انکوائری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ عمران فیروز ملک نے عدالت کو بتایا کہ اس فیصلے کے کچھ دیگر پہلو بھی ہیں، ہمیں انکوائری پر نہیں، صرف مقدمہ اندراج پر اعتراض ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت اس کیس کے میرٹس میں نہیں جائے گی، جس کے بعد انہوں نے درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔یڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد جہانگیر اعوان کی عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو پر مبینہ الزام تراشی کرنے والی امریکی خاتون بلاگر سینتھیا ڈی رچی کے خلاف ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔گذشتہ روزپیپلزپارٹی اسلام آبادکے صدر شکیل عباسی کی امریکی خاتون سینتھیا ڈی رچی کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پردلائل مکمل ہونے کے بعد13 جون کو محفوظ کیاتھا، عدالت نے سینتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کا حکم دینے سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ادھر سینتھیا رچی کے خلاف اندراج مقدمہ کی ایک اور درخواست اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر کرائی گئی، عدالت نے شہری ندیم مغل کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا، فاضل جج جہانگیر اعوان نے ریمارکس دیئے کہ دوسرے مقدمے میں ایف آئی اے کا جواب آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں۔