پاکستان میں10اگست تک کورونا سے80ہزار ہلاکتیں ۔۔۔برطانیہ میں پیش کی گئی ہوش اڑا دینے والی تحقیقی رپورٹ سامنے آ گئی

لندن(ویب ڈیسک)برطانیہ میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 10 اگست کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر کن دن ہوگا،اس ایک دن میں 80 ہزار اموات ہوسکتی ہیں۔مقامی اخبار ”دی نیوز“ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق امپیریل کالج لندن برطانوی حکومت کے تعاون سے ایک سٹڈی کی گئی جس کا

موضوع تھا کہ دنیا بھر کے ممالک کو لاک ڈاون اور بغیر لاک ڈاون کورونا وائرس سے کس حد تک نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔پاکستان سے متعلق اس ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان میں 27 فروری سے 11 جولائی تک 32 فیصد لاک ڈاون کیا گیا تو 4 اگست کورونا وائرس کا پیک ڈے ہوگا اور اس دن تک پاکستان میں 1 کروڑ 35 لاکھ 70 ہزار افراد کورونا وائرس کا شکا ر ہوسکتے ہیں۔اسی ریسرچ کے مطابق پاکستان میں 10 اگست کو کورونا وائرس کی ریکارڈ ہلاکتوں کا امکان ہے، اس دن تقریبا78ہزار 5سو 15افراد کورونا وائرس کے باعث جان کی بازی ہار سکتے ہیں، اس دن کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز کمی واقع ہونا شروع ہوجائے گی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مراعات اسد عمر نے خبردار کیا ہے کہ ایس اوپیز پرعمل نہ کرنے کی صورت روزگار بھی چھینا جاسکتا ہے، کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ماسک پہننا لازمی ہوگا، جولائی میں یومیہ ٹیسٹوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کر دیں گے، زیادہ کیسز والے علاقوں میں مزید بندشیں لگائیں گے۔ انہوں نے سی اوسی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اگر ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے کی صورتحال یہی رہی تو جولائی کے آخر میں کیسز12 لاکھ ہوجائیں گے۔پاکستان میں 26 فروری کو ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جبکہ اب جون کے وسط میں کورونا کیسز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہے، جبکہ ایس اوپیز پر عمل نہ کیا گیا تو جولائی کے آخر میں تعداد 3 لاکھ تک ہوجائے گی، کورونا کا پھیلاؤ صرف ماسک پہن کر روکا جاسکتا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ دنیا میں جو تحقیق ہوئی ہے اس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ماسک سے وباء کے پھیلاؤ میں 50 فیصد کمی کی جاسکتی ہے۔اس لیے وباء سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ ماسک پہننا ہے۔ اگر اپنا اور اپنے خاندان کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو ماسک پہنیں۔ سماجی فاصلہ قائم کریں اور اس حوالے سے حکومت ہدایات جاری کرچکی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ اسلام آباد میں کارروائی کی گئی ہے، وزیراعظم گزشتہ روز لاہور گئے تھے اور پنجاب میں سختی کا فیصلہ کیا گیا اور پنجاب حکومت اعلان کرے گی کہ جن علاقوں میں وبا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھتا نظر آرہا ہے ان علاقوں میں انتظامی کارروائی کرکے ٹارگٹڈ یا اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جائیگا۔وزیر منصوبہ بندی نے ملک میں 1200 چھوٹے مقامات پر یہ بندشیں نافذ تھیں اور اب پنجاب میں لاہور سے بندشوں کا آغاز کیا جائے گا اور پیر سے پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی زیادہ پھیلاؤ والے مقامات کی نشاندہی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جون کے آخر تک انتہائی نگہداشت یونٹ کے 1000 بستر اور جولائی کے آخر میں 2150 بستروں کا اضافہ کیا جائے گا، یہ بستر وفاق کی جانب سے صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ سندھ میں 500، خیبرپختونخوا 400، پنجاب 500، بلوچستان 200، گلگت بلتستان 45، آزاد کشمیر 60 اور اسلام آباد میں 450 بستروں کا اضافہ کیا جائے گا۔