بریکنگ نیوز: پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا ذمہ دار کون؟ 17 جون کو بڑے بڑوں کو پیش ہونے کا حکم آگیا

لاہور (ویب ڈیسک) پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا ذمہ دار کون؟ 17 جون کو بڑے بڑوں کو پیش ہونے کا حکم، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعظم، سیکرٹری پٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کو طلب کر لیا، تمام متعلقہ افسران کو پیش ہونے سے 2 روز قبل تحریری جواب جمع کرانے کا حکم۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خلاف دائر درخواست پر پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعظم اعظم خان سمیت دیگر ذمہ دار افسران کو جواب سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں شہری پٹرول کے حصول کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ اتنے دنوں سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت ہے اور عوام چیخ و پکار کر رہے ہیں، دس دنوں بعد وزیراعظم نے تقریر میں کہا کہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں، لوگ پٹرول کے لئے مارے مارے پھر رریے ہیں کیا یہ حکومت کی ناکامی کی انتہا نہیں؟ چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے دوران ریمارکس دئیے کہ مدینہ کی ریاست میں فرات کنارے کتا بھی مر جائے تو اس وقت کا خلیفہ جوابدہ ہوتا ہے، پٹرولیم کی قلت کے معاملے پر خاموشی سے کمیٹی بنادی گئی، بظاہر لگتا ہے اس کا مقصد کچھ لوگوں کو مفاد دینا تھا۔ عدالتی استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قلت دور کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے، کابینہ نے بھی اجلاس منعقد کرکے کمیٹی بنادی ہے، پی ایس او پر پٹرول دستیاب ہے، باقی پر جلد دستیابی یقینی بناِئی جائے گی۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ عجب تماشہ ہے کہ جب تک عدالتیں مداخلت نہیں کرتیں لوگوں کے حقوق نہیں دیے جاتے، پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث زراعت کا شعبہ بھی تباہ ہو جائے گا اگر حکومت شہریوں کو کوئی بنیادی سہولت فراہم نہ کرسکے تو کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں ہے؟ موجودہ صورتحال میں تو وزیر پٹرولیم کو استفعی دے دینا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے پٹرولیم مصوعات کی قلت کے خلاف دائر درخواست پر حکم دیا کہ تمام متعلقہ افسران جواب جمع کروایں کہ پٹرول کی قلت اور بحران پیدا کرنے والے متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، پٹرول کی قلت کا معاملہ وزیر پٹرولیم اور وزیر اعظم کے نوٹس میں کب لایا گیا؟ اور انہوں نے کیا کاروائی کی؟ ذمہ داروں کے خلاف کی گئی کاروائی کی عمل درآمد رہورٹ آیندہ سماعت پر تفصیلی جواب عدالت پیش کیا جائے۔ درخواست گزار ایڈوکیٹ شبیرحسین کی جانب سے فرحت منظور چانڈیو ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قمیتیں کم کی گئیں، قمیتیں کم ہونے سے پٹرول پمپس ڈیلرز نے پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی پیدا کردی، استدعا ہے کہ عدالت متعلقہ اداروں کو پٹرولیم مصنوعات کی قلت دور کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے پرنسپل سیکررٹری ٹو وزیر اعظم اعظم خان، اورسیکرٹری پٹرولیم ، چئیرمین اوگرا سمیت دیگر تمام متعلقہ افسران سترہ جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اورعدالت نے تمام متعلقہ افسران کو پیش ہونے سے دو روز قبل تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔