عمران خان نے اپنی کتاب ’میں اورمیرا پاکستان ‘‘میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے متعلق کیا لکھا ؟حکمرانی کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا؟ سلیم صافی میدان میں آگئے، تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی سلیم صافی نے اپنے کالم ’’بھٹو، بےنظیر اور عمران خان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان اپنی کتاب ”میں اور میرا پاکستان“ میں ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ وہ آدمی تھا جسے قدرت نے کرشماتی شخصیت عطا کی تھی ۔ تاریخی شعور سے وہ بہرہ ور تھا۔ اعلیٰ تعلیم

یافتہ اور غیرمعمولی ذہانت کا امین۔ اگر وہ چاہتا تو پاکستان کو بدل کر رکھ دیتا۔ وہ ایک قوم پرست تھا اور اس نے ملک کی پہلی عوامی جماعت تشکیل دی۔ اس کے کردار میں مگر ایک مہلک سقم ایسا تھا کہ ہر امکان کو جس نے برباد کر دیا۔ اس کا جاگیردارانہ ذہن اختلاف کی تاب نہ لا سکتا۔ جلد ہی انتقامی انداز اس کی حکومت کا امتیازی نشان بن گیا“۔ (میں اور میرا پاکستان، صفحہ36)لوگ عمران خان کو سیدھا سادہ انسان سمجھتے ہیں لیکن میں نے ان کو کبھی ایسا نہیں سمجھا۔ میرے نزدیک وہ ذہین ترین اور جہاندیدہ انسان ہیں جو میکاولی کو بھی پڑھ چکے ہیں اور ان سے کچھ سیکھا بھی ہوگا۔ آج سے چھ سال قبل انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا جو تجزیہ کیا وہ کمال کا ہے۔ انہوں نے گویا دریا کو کوزے میں بند کیا اور مجھے بھی ان کے تجزیے سے سو فیصد اتفاق ہے۔ صرف عمران خان نہیں بلکہ بھٹو کی اسٹیٹس مین شپ کی اس وقت کی عالمی قیادت بھی معترف تھی۔ معروف صحافی اوریانا پلاسی جنہوں نے اس وقت کی دنیا کے تمام اہم لیڈروں کے انٹرویوز کئے تھے اور پھر انہیں ”انٹرویو ود دی ہسٹری“ کے نام سے کتابی شکل میں مرتب کی ہے، نے بھی بھٹو کو اس وقت کی دنیا کے تمام لیڈروں کے مقابلے میں سب سے بڑا اسٹیٹس مین قرار دیا۔ یوں عمران خان نے ان کی بالکل صحیح تشخیص کی تھی کہ صرف انتقامی مزاج کی خامی نے بھٹو کو ناکام بنا دیا۔ اب

میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اقتدار میں آنے کے بعد خود خان صاحب نے بھٹو کی کسی ایک بھی خوبی کو تو نہیں اپنایا لیکن صرف ان کی اس ایک خامی کو سینے سے لگا رکھا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد اب تک عمران خان نے ایک کام بھرپور طریقے سے کیا ہے اور وہ ہے سیاسی اور صحافتی مخالفین سے انتقام لینا۔ ان کا جذبہ انتقام اس قدر شدید ہے کہ کورونا کی وبا کے دنوں میں بھی ان کی اور ان کی ٹیم کی اصل توجہ انتقام لینے اور مخالفین کی کردار کشی پر مرکوز ہے۔اپنی مذکورہ کتاب میں عمران خان نے محترمہ بےنظیر بھٹو کے بارے میں بھی دلچسپ تجزیہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ”ابتدا ہی سے یہ بھی عیاں تھا کہ بےنظیر کی پرواز بلند تھی۔ وہ برتری اور جاہ و حشمت کی آرزومند تھیں۔ میں تو وہاں سے چلا آیا مگر بےنظیر مزید ایک برس اوکسفرڈ یونیورسٹی میں قیام پذیر رہیں۔ میرا خیال ہے اس لئے کہ وہ طلبا یونین کی صدر بننے کا پختہ عزم رکھتی تھیں۔ محترمہ کا مسئلہ یہ تھا کہ وزیراعظم بننے سے قبل انہوں نے کبھی کوئی ذمہ داری نہیں سنبھالی تھی۔ پہلا منصب اور وہ بھی اس قدر گراں بار۔ وزیراعظم وہ اس لئے بن گئیں کہ بھٹو کی بیٹی تھیں جس طرح کہ 19سال کی عمر میں بلاول کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین چن لیا گیا۔ چھ ماہ بےنظیر نے جیل کاٹی اور برسوں تک گھر میں نظر بند رہیں، پارٹی کی قیادت کے لئے مگر انہیں کوئی جدوجہد نہ

کرنا پڑی، نہ ہی سیاسی تجربہ حاصل کرنے کے لئے گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا پڑا۔ میں اس امتحان کی اہمیت کو کم کرکے پیش نہیں کرنا چاہتا، باپ کی پھانسی کے بعد جس سے وہ گزریں۔ ملک چلانے کے لئے یہ تجربہ مگر کافی نہ تھا۔ کس طرح آپ پاکستان ایسے پیچیدہ ملک کو بطریق احسن چلا سکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے آپ نے کبھی کوئی ایسا کام ہی نہ کیا ہو۔ قیادت کی سنگلاخ راہوں سے وہ نہیں گزری تھیں چنانچہ بصیرت جاگی اور نہ کوئی نظریہ جنم لے سکا۔ حسن انتظام اور ادارہ سازی کا فن ابھی وہ سیکھ نہ پائی تھیں۔ کسی کاروباری کمپنی کا سربراہ یا فوج کا جنرل بننے کے لئے بھی آپ کو ایک نہیں کئی طرح کی مہارت درکار ہوتی ہے۔ یکے بعد دیگرے طرح طرح کی ذمہ داریوں کا بوجھ آپ اٹھاتے ہیں تو اس قابل ہوتے ہیں کہ سربراہی سنبھال سکیں“۔ (میں اور میرا پاکستان: صفحہ121)اس اقتباس میں عمران خان صاحب بےنظیر بھٹو صاحبہ کے بطور حکمران ناکامی کی واحد وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وزیراعظم بننے سے پہلے ان کا حکمرانی کا تجربہ نہیں تھا۔ خان صاحب کے الفاظ میں ”ملک چلانے کے لئے یہ تجربہ مگر کافی نہ تھا۔ کس طرح آپ پاکستان ایسے پیچیدہ ملک کو بطریق احسن چلا سکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے آپ نے کبھی کوئی ایسا کام ہی نہ کیا ہو“۔ اب بےنظیر بھٹو کے تو دادا بھی سیاستدان تھے اور باپ بھی سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ حکمران تھے۔ آپ اگر کسی حکمران کے گھر پلے

بڑھیں تو اس سے بھی غیرمحسوس انداز میں کافی تجربہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے جوانی کرکٹ کھیلنے میں نہیں گزاری تھی بلکہ تب بھی وہ سیاست پڑھ اور کررہی تھیں جبکہ دوران طالب علمی بھی اسٹوڈنٹس یونین کی سیاست کرتی رہیں۔ بھٹو صاحب خود بھی ان کو ساتھ لئے پھرتے تھے تاکہ وہ آداب حکمرانی سیکھ سکیں۔ انہوں نے جیل بھی کاٹی اور نظربندیاں بھی گزاریں۔ وہ مشورہ لیتی تھیں اور جب وزیراعظم بنیں تو ملک کے اعلیٰ پائے کے سیاستدان ان کی ٹیم اور حلقہ مشاورت میں شامل تھے لیکن عمران خان صاحب کہہ رہے ہیں اور شاید درست کہہ رہے ہیں کہ یہ تجربہ پاکستان جیسے ملک کی حکمرانی کے لئے کافی نہیں تھا۔ اب سوال یہ کہ عمران خان صاحب نے جوانی سیاست میں گزاری، نہ جیل گئے اور نہ جیلوں میں رہنے والے کسی سیاستدان کے گھر میں پلے بڑھے۔وزیراعظم بننے سے قبل انہوں نے وزارت تو کیا کسی یونین کونسل کی چیئرمین شپ بھی نہیں کی۔ وہ مشورہ بھی نہیں لیتے اور بےنظیر بھٹو کے تجربہ کار مشیروں کے برعکس ان کے مشیر بھی غیرسنجیدہ اور نا تجربہ کار لوگ ہیں۔ اب خود عمران خان کے اپنے کلیے کے مطابق کہ اگر بےنظیر بھٹو کی اس ایک خامی یعنی ناتجربہ کاری، نے انہیں ناکام بنا دیا تو پھر خود خان صاحب کیسے کامیاب ہوں گے؟ مجھے ان دنوں خان صاحب کے اٹھائے ہوئے اس سوال نے پریشان کردیا ہے کہ اگر بےنظیر بھٹو حکمرانی کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو نقصان پہنچا گئیں تو پھر خود خان صاحب کی حکمرانی کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا؟۔