کرپشن ہوئی ہے، لیکن یہ کرپشن میں نے نہیں بلکہ میرے بیٹوں اور دامادوں نے کی ہے۔۔۔شہباز شریف نے نیب میں کرپشن کا اعتراف کرلیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے نیب میں کرپشن کا اعتراف کرلیا ہے، سینئر صحافی عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف نے نیب ٹیم کو بتایا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، کرپشن ہوئی ہے، لیکن یہ کرپشن میں نے نہیں بلکہ میرے بیٹوں اور دامادوں نے کی ہے،

اس کرپشن کا سوال آپ ان سے پوچھیں۔ ذرائع کے مطابق نیب میں پیشی کے دوران نیب حکام نے شہباز شریف کے سامنے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ رکھی اور 4 مشکوک ٹرانزیکشن کا پوچھا۔یہ ٹرانزیکشن غلطی سے شہباز شریف کے اپنے اکاؤنٹ میں ہوگئی تھیں، جس پر شہباز شریف کو کافی پریشانی ہوئی۔ شہباز شریف نے نیب ٹیم کے سوال کا جواب دیا کہ غیرملکی اثاثوں سے متعلق لیے گئے قرض کی تفصیل الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں درج ہے۔تاہم شہباز شریف نے نیب میں غیرملکی اثاثوں سے متعلق تحریری جواب بھی جمع کروایا، جس پر نیب حکام کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا تحریری جواب نامکمل ہے، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔سینئر صحافی عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف نے نیب میں کرپشن کا اعتراف کرلیا ہے، شہباز شریف نے نیب ٹیم کو بتایا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، کرپشن ہوئی ہے، لیکن یہ کرپشن میں نے نہیں بلکہ میرے بیٹوں اور دامادوں نے کی ہے۔اس ریکارڈنگ کو اگر شہباز شریف پبلک کرنا چاہتے ہیں تو سپریم کورٹ میں جا کر کہیں کہ جناب میں جو نیب میں بات کرکے آیا ہوں، اس کو پبلک کردیں۔شہباز شریف نے نیب کے دفتر میں کہا ہے کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں،کہ یہ کرپشن ہوئی ہے، دوسرا انہوں نے نیب حکام کو بتایا کہ میرا اس کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کرپشن میرے بچوں نے کی ہے، میرے بیٹوں اور دامادوں نے یہ کام کیا ہے، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ جو چیزیں میرے سامنے رکھ رہے ہیں، آپ کا مئوقف بالکل ٹھیک ہے۔ نیب حکام نے کہا کہ آپ کے بچے ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، ہم ان کو پیشی کے لیے لیٹر لکھتے ہیں لیکن وہ آتے نہیں۔جس پر شہباز شریف نے کہا آپ مجھے سوالنامہ دیں میں ان کو دیتا ہوں ، وہ جواب دیں گے۔ نیب نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ بار کلے بینک سے کتنا قرض لیا؟نصرت شہباز، سلمان شہباز، حمزہ شہباز نے رقوم کس مد میں اور کتنی رقوم منتقل کیں؟ شہباز شریف سے نصرت شہباز کو تحائف دینے سے متعلق سوال کیا گیا۔اس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ سوال آپ ان سے پوچھیں۔