سرکاری ٹیم میں اختلافات۔۔!! حکومت نےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیس کے حوالے سے کیا فیصلہ کر لیا؟ تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) معروف صحافی ہارون رشید کا کہنا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس واپس لینے پر غور کررہی ہے۔سرکاری ٹیم میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔وکیل فروغ نسیم کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ مضبوط ہے۔دلائل کے ذریعے ججوں کو قائل کیا جا سکتا ہے۔اٹارنی جنرل بھی اس حق میں نہیں

ہیں۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ بعض وزراء اور سرکاری وکیلوں نے بھی حکومت سے کہا ہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔کچھ نے تو یہ بھی کہا کہ چوہدری افتخار جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔لیکن میرے خیال سے ویسی صورتحال تو پیدا نہیں ہو گی لیکن پیچیدگیاں ضرور ہوں گی۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں حکومتی وکیل سے تحریری معروضات طلب کر رکھی ہیں۔جمعرات کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی۔دوران سماعت فاضل جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ عدالت نے ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) ، یونٹ کے کردار پر قانونی سوال کئے ہیں، شکایت صدر مملکت کو بھیجنے کی بجائے اے آر یو یونٹ کو پذیرائی کیوں دی گی۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مجھے حقائق بیان کرنے دیں، اس سے مقدمے کو سمجھانے میں آسانی ہو گی۔ عدالت نے سوالات سے مجھے بہت معاونت فراہم کی، میں 27 قانونی نکات پر دلائل دوں گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی وکالت کون کر رہے ہیں۔ فروغ نسیم نے بتا یا کہ صدر مملکت کی وکالت ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود اور وزیراعظم کی وکالت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کریں گے۔ جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے مواد پر اپنی رائے کیسے بنائی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کرتا ہے، اس قسم کی سمریوں پر اسٹیدیز اور متعلقہ وزارتوں سے رائے لی جاتی ہے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آ رٹیکل 209 کے اختیارات بڑے منفرد ہیں، جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوانے پر صدر مملکت کا کردار بڑا اہم ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 209 عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہے، ریفرنس کے موادپر صدر کو اپنا ذہن اپلائی کرنا ہوتا ہے، ریفرنس فائل کرنا کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے، صدر مملکت آرٹیکل 48 کے تحت ریفرنس نا مکمل ہونے پر واپس بھیج سکتے ہیں، صدر مملکت ریفرنس بھجوانے کی ایڈوائس پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا فروغ نسیم اے آر یو کے بارے میں ہمیں کچھ بتا دیں، اے آر یو کی انکوائری پر مواد صدر مملکت کے سامنے رکھا گیا۔