’’ دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں‘‘۔۔ اہم حکومت وزیر نے پیشگی آگاہ کردیا، عوام جلدی سے راشن اکھٹا کرلیں

مانسہرہ (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات سینیٹر اعظم خان سواتی کا کہنا ہے کہ ہم دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں۔ مانسہرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ سیاحت نا صرف ملکی بلکہ مقامی معتات کی ریڑھ کی ہڈی ہے، چند روز میں سیاحت کو کھول دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمدکرنے سے ہی موذی مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ عوام ایس او پیز پرعمل درآمد نہیں کر رہے، سخت لاک ڈاؤن کے فیصلے کرنے پڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس او پیز پر 10فیصد بھی عوام عمل نہیں کر رہے، جس کی رپورٹ وزیراعظم کوپیش کروں گا۔ اعظم خان سواتی نے کہا کہ سندھ بالخصوص کراچی کی عوام نے ایس او پیز پرعملدرآمد نہیں کیا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے کارکنوں سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، ہم لاک ڈاؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے جبکہ کورنا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، اس نے پھیلنا ہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں رضا کاروں کی ضرورت تھی جو عوام کو ضابطہ کار بتائیں، ٹائیگرفورس کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ وہ لوگوں کو کورونا سے متعلق سمجھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رمضان میں فیصلہ کیا کہ مساجد ضابطہ کار کے مطابق کھولیں گے، پولیس فورس اتنی نہیں تھی کہ تمام مساجد میں جاکرضابطہ کار پر عمل کرائیں لیکن ٹائیگرفورس کے رضا کاروں نے مساجد میں جاکرضابطہ کار پر عمل کرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لوگ ضابطہ کار پر عمل کریں گے تو مشکل وقت سے نہیں گزریں گے، ہم نے شروع سے بہترین اقدامات کیے جس کی وجہ سے آج حالات بہتر ہیں، ہمیں پتاتھا کہ لاک ڈاؤن کھلے گا تو کورونا پھیلے گا، ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں زیادہ متاثرہ علاقوں کو بند کرنا پڑے لیکن

ہم کورونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، اس نے پھیلنا ہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سےغریب لوگوں کو نقصان ہوتا ہے، دیگر ممالک میں کورونا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہی ہوئی، لاک ڈاؤن میں غربت بڑھ جاتی ہے اور غریب کی تباہی ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، ہم لاک ڈاؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے جبکہ کورنا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے، لوگ بات کرتے ہیں کہ سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیے، انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ بہت سے ممالک نے کیسز بڑھنے کے باوجود لاک ڈوان ختم کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا، دنیا بھی یہی مانتی ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن بہتر ہے، ریلیف سے متعلق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی تعریف کی ہے، ہم نے کم وقت میں اتنا زیادہ پیسہ مستحق لوگوں تک پہنچایا، اگرمؤثر ریلیف پیکج کا اعلان نہ کرتے تو ملک کے حالات خراب ہوتے۔ خیال رہے کہ 9 مئی کو جزوی لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک 1838 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ملک میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی 90 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جو کہ چین سے زیادہ ہے۔