شہبازشریف کی ممکنہ گرفتاری! رہائشگاہ پر چھاپے سے قبل کس سرکاری ادارے کی جانب سے فون کرکے مطلع کیا گیا؟ واقفانِ حال کی بڑی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار عمران یعقوب نے انکشاف کیا ہے کہ نیب کے اعلیٰ افسر نے شہباز شریف کو گرفتاری کیلئے چھاپے سے قبل ٹیلی فون کے ذریعے مطلع کیا تھا۔ جی این این کے پروگرام ”ویو پوائنٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی عمران یعقوب نے انکشاف کیا

کہ جیسے ہی نیب کی جانب سے شہباز شریف کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو نیب کی جانب سے ایک افسر نے پہلے ہی پی ٹی سی ایل نمبر سے فون کرکے چھاپے کے بارے میں مطلع کردیا تھا۔ عمران یعقوب نے بتایا کہ نیب کے اعلیٰ افسر کے جس کار خاص کو گرفتاری کے لئے بھجوایا گیا یہ وہی صاحب ہیں جن پر جیل میں مریم نواز کو موبائل فون فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔ سینئر صحافی نے بتایا کہ نیب ٹیم نے ماڈل ٹاون میں شہباز شریف کے گھر کی مکمل تلاشی بھی نہیں جبکہ جاتی عمرہ میں جانے والے افسر بھی بغیر چھاپے کے واپس گئے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان کے احتساب کے ادارے نیب نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لیے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا یے۔ نیب کی ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پہنچی۔ مسلم لیگ ن کے راہنما عطااللہ تارڑ کے مطابق نیب کو بتایا گیا کہ شہباز شریف گھر پر نہیں ہیں۔ واقعے کی مختلف تصاویر اور ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار شہباز شریف کی رہائش گاہ کے دروازے پر موجود ملازمین سے گھر کے اندر جانے کے لیے گیٹ کھولنے کا کہہ رہے ہیں۔ نیب کی ٹیم شہباز شریف کے گھر داخل ہوئی اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے بعد واپس روانہ ہو گئی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق شہباز شریف گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ بات نیب ٹیم کو بتا دی گئی تھی۔