اب کوئی تیل کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کر کے دکھائے۔۔۔!! حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کرنے کا 15سالہ فرسودہ فارمولا تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کرنے کا 15سالہ فرسودہ فارمولا تبدیل کر رہے ہیں۔ آئل کمپنیوں نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لئے مہنگا ہائی اوکٹین

فروخت کیا۔ قیمتوں کے اتارچڑھائو کے دوران مطلوبہ سٹکا پورا نہ کرکے اپلنے لائسنس کی خلاف ورزی کی ہے۔ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ ایچ او بی سی اور فیول آئل ریگولیٹڈ نہیں ہے۔ اوگرایا وزارت پٹرولیم ہائی اوکٹین کی قیمت متعین نہیں کرسکتی۔ ہائی اوکٹین پٹرول کی زیادہ قیمت کی تحقیقات کے لئے اوگرا کو لکھا ہے قانونی طور پر قیمت کا جائزہ لینا ریگولیٹر کا ہی کام ہوتاہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کرنے کے طریقہ کار میں اصلاحات کی جائیں گی۔ ندیم بابر نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے سے آئل کمپنیوں اور ریفائنریز کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ نقصان پورا کرنے کے لئے کمپنیاں زیادہ منافع کمانا چاہتی ہیں۔ ہائی اوکٹین پٹرول سستا ہونا چاہیے تھا لیکن نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئل کمپنیوں کو عوام کا خیال کرنا چاہیے۔ کمپنیز کو اگر پٹرول سستا ہونے سے نقصان ہوا ہے تو مہنگا ہونے پر فائدہ بھی ہوگا۔ قیمتیں طے کرنے کا نظام غیر مستحکم ماحول میں ناکام ہوجاتا ہے۔ گزشتہ15 برس سے لاگو پرائس فارمولا تبدیل کرنے جارہے ہیں۔ آئل کمپنیوں سے اگلے دو ماہ کی درآمد کا پلان طلب کیا ہے جبکہ ریفائنریز سے بھی آئندہ تین ماہ کی درآمد سے متعلق پلان مانگا ہے۔ قیمتوں کے اتار چڑھائو کے دوران سٹاک کی مطلوبہ مقدار برقرار نہ رکھ کر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے لائسنس کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوسری جانب ملک میں پٹرول کی بھی قلت ہے جس کے بعد اوگرا بھی حرکت میں آگیا ہے۔