غریب کا جہاں اور ہے،وزیر کا جہاں اور۔۔۔کورونا سے جاں بحق ہونے والے وزیر مرتضی بلوچ کا جنازہ کس شان و شوکت سے نکلا جان کر آپ حیران ہو جائیں گے

کراچی (ویب ڈیسک) کی رہنما اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی رکن صوبائی اسمبلی نصرت سحر عباسی نے سندھ حکومت کی جانب سے کرونا کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے پیپلزپارٹی قیادت کو آئینہ دکھا دیا۔اے آر وائی نیوز کے مطابق کرونا وائرس کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور صوبے

کی صورت حال سے متعلق سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہوا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما نے کہا کہ ’ایوان میں انگریزی کے بجائے اردو یا سندھی زبان میں تقریر کی جائے تاکہ دیگر اراکین کو سمجھ آئے، آپ انگریزی بول کر جان نہیں چھڑا سکتیں‘۔اُن کا کہنا تھا کہ وزیرصحت کے اعداد و شمار سچ ہیں تو ڈاکٹرز احتجاج کیوں کررہے ہیں، ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی تقریر سُن کر معلوم ہوتا ہے کہ سندھ بہت ترقی کررہا ہے جبکہ حقیقت میں صورت حال اس کے برعکس ہے، حکومتی رویے کی وجہ سے ڈاکٹرز احتجاج پر ہیں۔نصرت سحر عباسی کا کہنا تھا کہ ’سندھ کیاسپتالوں کی صورتحال اتنی اچھی ہے تو زرداری کیوں نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں، سندھ کیاکثرسرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کی سہولت موجود نہیں ہے‘۔سندھ کیاسپتالوں کی صورتحال اتنی اچھی ہے تو وزرا کیوں نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، اراکین اسمبلی کے ٹیسٹ کیوں نجی اسپتال سے کرائے جارہے ہیں، کرونا سے انتقال کرجانے والے صوبائی وزیر برائے کچی آبادی مرتضٰی بلوچ کے نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کیوں کی، کیا ایس او پی نہیں تھا یا صرف عوام کے لیے ہے‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت نیکس کوپیسیدیے،کہاں گئے وہ پیسے اس کا کسی کو علم نہیں کیونکہ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ 8 ارب روپے تقسیم کیا گیا‘۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رکن اسمبلی حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں کس کوراشن ملاکسی نینہیں دیکھا، صوبے میں حکومت نے صرف بھاشن تقسیم کیا، یہاں باتیں بڑی ہوئیں مگر اقدامات کہیں نظر نہیں آئے، حکومت نے باتوں سے عوام کے پیٹ بھرے اور انہیں کرونا سے بچانے کے اقدامات کیے‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں صرف اجلاس ہوتے رہیکام کوئی نہیں کیاگیا، 27فروری سیمیٹنگ نوٹیفکیشن ہورہے ہیں، مگر حکومت کوئی عملی کام نہیں کرسکی اگر کیا ہے تو وہ ہمیں بھی بتائے‘۔حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے بس یہ کہتی اور اعلان کرتی نظر آتی ہے کہ یہ کیا جائے گا وہ کیا جائے گا، لیکن یہ ہوگا کب اس بارے میں وہ خود نہیں جانتے کیونکہ یہ کچھ نہیں کرتے، لاڑکانہ کے ووٹر تو پیپلزپارٹی کے اپنے ہیں انہیں بھی حکومت نے نہیں بخشا اور نہ ہی کوئی اقدامات کیے، وہاں ایڈز، کتے کاٹنے کے کیسز سامنے آئے، حکومت اتنے عرصے میں اپنے مضبوط گڑھ میں اچھا اسپتال تک نہیں بنا سکی‘۔