بھارت بہت بڑے صدمے کا شکار، پورے ملک میں ہلچل مچ گئی

بیجنگ(نیوز ڈیسک )بھارت کے سکریٹری دفاع اجے کمارکے کوروناوائرس کی وبا سے متاثر ہونے کی خبروں نے ملک کے ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق یہ تشویش ناک پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ دونوں

ممالک اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے 6 جون بروز ہفتہ اعلی کمانڈروں کی سطح پر بات چیت کرنے والے ہیں۔وزارت دفاع کے ترجمان نے گوکہ اس حوالے سے کچھ بھی کہنے سے فی الحال انکار کردیا تاہم یہاں سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈیفنس سکریٹری اجے کمار کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد وزارت دفاع کے دفتر ساوتھ بلاک میں صدمے کی لہر دوڑ گئی اوروزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نیز دیگر اعلی فوجی اورسویلین افسران اپنے دفاترنہیں گئے۔ذرائع کے مطابق ساوتھ بلاک کو انفیکشن سے پاک کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کردیے گئے ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ڈیفنس سکریٹری اس دوران کن کن لوگوں کے رابطے میں آئے تھے۔ پچھلے چند دنوں کے دوران تقریباً 30 افراد ڈیفنس سکریٹری کے رابطے میں آئے تھے ان سب کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور انہیں خود ساختہ قرنطینہ میں چلے جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں مسلسل تین دن تک ہونیوالی پری مون سون بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے20 افراد ہلاک ہوگئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ریاست آسام کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد سمیت 20 ہلاک ہوگئے جبکہ لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے کئی مکان تباہ ہوگئے ،حکام کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ملبے سے مزید لاشیں مل سکتی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات کے بعد ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا عملہ امدادی کاموں کیلئے روانہ ہوگیا، لکھی پور میں ایک خاندان کے 7 افراد جبکہ ایک خاندان کے 5 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔کئی روز سے شدید بارشوں اور سیلاب کی صورتحال سے نبرد آزما بھارتی ریاست آسام میں اب تک 2 لاکھ مکانات تباہ ہوچکے ہیں جبکہ حالیہ ہفتوں میں 6 ہزار 500 ایکڑ پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔