اُلٹی پڑ گئیں تدبیریں۔۔!! جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کے مرکزی ملزم طارق محمود کو فوری رہا کرنے کا حکم سنا دیا اور ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے کے عوض ملزم کی ضمانت قبول کرلی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ

نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے کے تفتیشی سے سوال کیا کہ کس نے بلیک میلنگ کی؟ کون کس کو بلیک میل کرتا رہا؟ کیا ثبوت ناقابل تردید ہیں کہ طارق محمود نے جج کو بلیک میل کیا؟تفتیشی نے بیان دیا کہ جج ارشد ملک کے ملازموں نے بیان دیا کہ طارق محمود جج ارشد ملک کو بلیک میل کرتا رہا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جج بلیک میل ہو گیا؟ بتائیں جج کیسے بلیک میل ہوا؟ چیف جسٹس نے پوچھا کہ طارق محمود کو کتنے عرصے سے جیل میں رکھا ہوا ہے تفتیشی نے جواب دیا کہ ملزم طارق پچھلے 10 ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ویڈیو دیکھی ہے؟ جس پر تفتیشی نے بتایا کہ ویڈیو کو دیکھا گیا ہے جج غیر اخلاقی حالت میں ہے اور ویڈیو بن رہی ہے فرانزک رپورٹ کے مطابق ویڈیو اصلی ہے اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس میں جج بھی قصور وار ہے۔ میاں طارق نے بلیک میل کیا اس کے خلاف کیا ثبوت ہیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر ثبوت ہیں تو وہ ایف آئی اے کی رپورٹ میں کیوں نہیں ہیں وہ ثبوت عدالت کو دکھائیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سے بتایا کہ اس حوالے سے گواہوں کے بیان موجود ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے پاس ثبوت موجود نہیں ہیں ملزم کو کس بنیاد پر سزادلوائیں گے؟ فریقین کے دلائل سن کر عدالت نے ملزم کی ضمانت بعداز گرفتاری منظور کر لی۔میاں طارق محمود پر2003 میں جج ارشد ملک کی نازیبا ویڈیو بنانے کا الزام ہے جبکہ اس الزام میں طارق محمود کو2019 میں ملتان سے گرفتار کیا گیا تھا۔