’’ بیٹی صرف خیریت سے پہنچنے کا فون ہی کردے ۔۔‘‘ ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ اس وقت کس حال میں ہیں؟ رقت آمیز مناظر نے قوم کو ایک بار پھر افسردہ کر دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ ابھی تک اپنی بیٹی کے حوالے سے کسی طرح کی افسوسناک خبر سننے کے لئے تیار نہیں اور ان کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ انعم کی والدہ اور گھر والوں کا کہناہے کہ اس کا فہرست میں نام نہیں

اور ابھی تک کچھ معلوم نہیں ۔ انعم کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ روانگی سے قبل فون کرتی اور پھر منزل پر پہنچ کر خیریت سے پہنچنے کا موبائل میسج ضرور کرتی تھی ۔ بیٹا صرف خیریت سے پہنچنے کا فون کر دے ۔ انہوں نے کہا کہ انعم زخمی ہے وہ گھر واپس آئے گی ، اللہ تعالیٰ سب کو صحت دے ۔انہوںنے کہاکہ انعم نے گزشتہ ہفتے امریکہ فلائٹ کینسل کی تھی وہ عید پاکستان میںمنانا چاہتی تھی ۔انعم کے والد اور دیگر اہل خانہ شناخت کیلئے کراچی پہنچ گئے ہیں ۔اس موقع پر انعم خان کے والد مسعود خان کا کہنا تھا انعم خان میری بیٹی نہیں بیٹا تھی، جب میں یا اس کی ماں بیمار ہوتی تھی تو وہ بیٹوں کی طرح ہمارا خیال رکھتی ، علاج کراتی ،چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنوں کا بھی خیال رکھتی ۔بھائی حمزہ کا کہنا تھا اس کو ابھی بھی بہن کے فون کا انتظار ہے ۔بد قسمت طیارے کے کپتان سجاد گل کی رہائشگاہ پر بھی تعزیت کرنے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ سجاد گل کے والد حیات گل نے کہا کہ میر ابیٹا بہادر شخصیت کا مالک تھا، انجن فیل ہونے کے باوجود مسافروں کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں۔دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے گزشتہ روز کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی۔تفصیلات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے حادثے میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97

افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے جو ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ سمری کے مطابق طیارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی۔سمری میں کہا گیا کہ دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) کی جانب سے طیارے کو 5 نومبر، 2020 تک اڑان بھرنے کیلئے صحیح قرار دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق ایئر بس A320-200 کو پرواز کی صلاحیت(ایئروردینس) کا پہلا سرٹیفکیٹ 6 نومبر 2014 سے 5 نومبر 2105 تک کیلئے جاری کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہر برس طیارے کے مکمل معائنے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔تحقیقاتی ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہوں گے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم کو سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے جو کم سے کم مدت میں اپنی رپورٹ ایوی ایشن ڈویژن کو جمع کرائیگی تاہم ابتدائی رپورٹ ایک ماہ کے اندر سامنے لائی جائے گی۔