’’ جن نعشوں کو سب سے پہلے اُٹھایا انکے چہروں پر۔۔۔‘‘ فیصل ایدھی نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر شخص افسردہ ہوگیا

کراچی(نیوز ڈیسک ) کراچی میں پی آئی اے کو پیش آئے انتہائی خوفناک حادثے کے دوران فلاحی تنظیم ایدھی فاونڈیشن نےخدمت خلق کی اپنی روایت برقرار رکھی۔ ایدھی کے سربراہ کہتے ہیں جن لاشوں کو سب سے پہلے نکالا ان کے چہروں پر ماسک تھے۔ فیصل ایدھی کی بات ظاہر کرتی ہے کہ

آخری لمحات میں طیارے میں کس قدر بےبسی اوربے چینی کا عالم ہوگا، اورلوگوں نےجان بچانے کیلئے جو کچھ کرسکتے تھے کیا ہوگا۔تفصیلات کے مطابق ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی جو حال ہی میں کورونا وائرس کو شکست دے کر کامیاب ہوئے ہیں جائے حادثہ پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں شامل تھے۔انہوں نے بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب پہنچے تو دھواں تو نہیں تھا لیکن آگ ابھی بھڑک رہی تھی، گلی میں رسائی بہت دشوار تھی، وہ بڑی مشکل سے داخل ہوئے اور جو زخمی تھے چار پانچ انہیں ہسپتال کے لیے روانہ کیا۔انھوں نے بتایا ’صرف رن وے سے دو سے ڈھائی سو میٹر کے فاصلے پر حادثہ پیش آیا، طیارہ تیسری منزل پر پانی کی ایک ٹنکی بنی ہوئی ہے اس سے ٹکرا گیا اور بیس فٹ چوڑی گلی میں گھس گیا۔ جہاز کے ملبے نے گلی کا راستہ بند کردیا تھا۔ ہم نے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر زخمیوں کو چھتوں سے ایک گھر سے دوسرے گھر اور یوں سیڑھیوں سے راستہ بناکر ایمبولینس میں منتقل کیا۔‘ فیصل ایدھی کے مطابق جن لوگوں کی لاشوں کو انھوں نے نکالا انھوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے جو ہنگامی حالات میں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔دریں اثنا فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار کا کہنا تھا جب انھوں نے لاشیں نکالیں تو سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی تھیں۔ خیال رہے کہ جیسے پی آئی اے کا طیارہ ماڈل کالونی کراچی میں گرا تو ریسکیوں اداروں کی بڑی تعداد جائے حادثہ پر پنچ گئی، ریسکیوں اداروں کے پہنچنے تک عوام اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں کرتے رہے۔