ذمہ دار وں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم ۔۔!!کسی کابینہ کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں، وزیر اعظم عمران خان نے تحقیقات کمیٹی کو بڑے احکامات جاری کردیئے؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے طیارہ حادثے کے لیے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو کابینہ سے منظور کا انتظار کیے بغیر تحقیقات کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی میں پی آئی اے طیارہ کے حادثہ کی تحقیقات کیلئے چاررکنی تحقیقاتی ٹیم کے قیام کااعلان کردیاہے۔

محکمہ شہری ہوابازی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق ائیرکرافٹ ایکسڈینٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ(اے اے آئی بی) کے صدر کموڈورمحمد عثمان غنی ٹیم کی قیادت کریں گے، ٹیم کے دیگرارکان میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈرملک محمد عمران، پاکستان ائیرفورس سیفٹی بورڈکامرہ کے آپریشنز انویسٹی گیٹرگروپ کیپٹن توقیر،اورجائنٹ ڈائریکٹر ائیرٹریفک کنٹرول آپریشنز اے اے آئی بی ناصرمجید شامل ہیں۔نوٹیفیکیشن کے مطابق تحقیقاتی ٹیم سول ایوی ایشن رولز مجریہ 1994 کے دفعات تین اورچار اوردفعات 272 سے 275 تک کے تحت حاصل اختیارات کم سے کم وقت میں رپورٹ مرتب کرکے ایوی ایشن ڈویژن میں داخل کرے گی تاہم ابتدائی رپورٹ نوٹیفکیشن کے اجراء کے ایک ماہ کے عرصہ میں جاری ہوگی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کابینہ کی منظوری کا انتظار کیے بغیر تحقیقات شروع کر دے۔دوسری جانب ق کراچی میں حادثے کا شکار پی آئی اے کے طیارے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار طیارہ پندرہ ناٹیکل مائل اپروچ پوائنٹ پرتھا جس پر ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاورنے طیارے کے کپتان کو خبرادر کیا کہ آپ کی بلندی زیادہ ہے، اس کو کم کریں۔ ذرائع کے مطابق عام طور پر پانچ ہزار ناٹیکل مائل پر لینڈنگ اپروچ ہونی چاہیے لیکن حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مطلوبہ لمٹ سے زیادہ اونچائی پر تھا جس پرکنٹرول ٹاور کپتان کو بار بار ہدایات جاری کرتا رہا کہ آپ ضرورت سے زیادہ بلندی پر ہیں، بلندی کو کم کر لیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار طیارہ دس ہزار فٹ بلندی پر تھا، ٹریفک کنٹرول کی جانب سے کپتان کو بلندی میں کمی کرنی کی بار بار ہدایات جاری ہوتی رہیں، جس پر طیارے کے کپتان نے کنٹرول ٹاور کو کہا کہ میں اپنی اسپیڈ مینج کر لوں گا.