24 گھنٹوں بعد تفصیلات آنا شروع۔۔!! کراچی طیارہ حادثے میں پنجاب حکومت کی اعلیٰ شخصیت بھی شہید

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حادثےکا شکار ہونے والے پی آئی اے کے بدقسمت طیارے میں اربن یونٹ پنجاب کے چیف ایگزیکٹو بھی سوار تھے۔سپیشل سیکرٹری فنانس پنجاب مجاہد شیر دل کے مطابق ان کے بھائی خالد شیر دل بھی پی آئی اے کی بد قسمت پرواز پر نجی کام سے کراچی گئے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر

سیکرٹری صحت پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان اور سابق پرنسپل سیکرٹری فوادحسن فواد سمیت دیگر اعلی افسران جی او آر ون میں خالد شیر دل کی سرکاری رہائش گاہ پہنچ گئے۔خالد شیر گریڈ 21 کے آفیسر اور سابق چیف سیکرٹری اے زیڈ کے شیردل کے صاحبزادے تھے۔دوسری جانب کراچی طیارہ حادثے میں 97 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پی آئی اے کے طیارے کو کراچی میں پیش آنے والے حادثے میں صرف3افراد محفوظ رہے۔ حادثے میں شہید ہونے والے ہر مسافر کی ایک الگ کہانی ہے۔ان مسافروں میں ایک نوبیہاتا د لہن بھی شامل تھی جو عید منانے کے لیے میکے آ رہی تھی۔بتایا گیا ہے کہ کراچی میں طیارہ حادثے میں شہید ہونے والی نوبیاہتا خاتون فریال عید منانے کے لیے میکے آ رہی تھی۔فریال کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی تین ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔لاک ڈاؤن کے بعد وہ کراچی نہیں آ سکتی تھی۔تاہم جیسے ہی ائیر سروس بحال ہوئی تو ان کے شوہر نے ٹکرا کر ا کر اسے کراچی بھیجنے کے لیے روانہ کر دیا تھا تاکہ وہ والدین کے ساتھ عید منا سکے۔اس طیارے میں شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی ماڈل زارا عابد بھی موجود تھی۔ازرا عابد کے ساتھ ایک اور معروف پاکستانی ماڈل بھی حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں موجود تھیں۔اسرا چوہدری نے اپنی آخری پوسٹ میں اللہ سے جمعہ کو رحمت بنانے کی دعا کی تھی، دونوں ماڈلز کی مسافر طیارے میں سوار ہونے پر پوری شوبز انڈسٹری غمگین ہے۔ ٹاپ اسٹار ماڈل زارا عابد کو کچھ ماہ قبل ہی لکس ایوارڈ ملا تھا جبکہ اسرا چوہدری نے چھ گھنٹے قبل انسٹاگرام پر آخری پوسٹ کی تھی۔ ماڈل اسرا چوہدری نے آخری پوسٹ میں جمعہ کو رحمت بنانے کا اللہ سے ذکر کیا تھا۔دونوں ماڈلز کی مسافر طیارے میں سوار ہونے پر پوری شوبز

انڈسٹری غمگین ہے ۔ اسرا چوہدری کا اصلی نام فروا علی تھا۔زارا عابد اور اسرا چوہدری کے حوالے سے یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد سے شوبز شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اسی طرح اس حادثے میں ائیرہوسٹس انعم بھی شہید ہو گئیں۔) کراچی طیارہ حادثے میں شہید ہونے والی ایئر ہوسٹس انم خان کے گھر میں سوگ کا سماں ہے۔طیارہ حادثے میں شہید ہونے والی ایئر ہوسٹس انم خان کے اہل خانہ اپنی جواں سالہ بیٹی کی ناگہانی موت کا یقین نہیں کر پا رہے، ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی بھی انم کے فون کا انتظار ہے۔ نجی ٹی وی کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے انم خان کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے صبح اٹھ کر سحری کی اور اس کا موڈ بے حد خوشگوار تھا۔ انم خان کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی سحری کرنے کے بعد دوبارہ سوگئی اور پھر میں نے اسے 9 بجے کے قریب اٹھایا، تو وہ بہت اچھے موڈ میں اٹھی، اٹھتے ہی بولی کہ پاپا وقت ہو گیا ہے میرا، میں ذرا پتا کر لوں کہ میری گاڑی آ رہی ہے کہ نہیں۔انم کے والد نے بتایا کہ اس کے بعد انم کہتی ہے کہ پاپا میری گاڑی آ رہی ہے میں بس تیار ہونے لگی ہوں۔ والد نے پوچھا کہ بیٹا تم نے روزہ کیوں رکھا ہے، جس پر انم خان نے جواب دیا کہ پاپا میں شام کو پونے چھ بجے تک واپس آ جاؤں گی، اور سوا چھ بجے تک گھر پہنچ جاؤں گی، ان شاء اللہ افطاری ساتھ ہی کریں گے۔ شہید انم کے والد نے بتایا کہ آج پہلا اتفاق ہوا کہ میں اور میری اہلیہ دونوں اپنی بیٹی کو گاڑی میں بٹھانے گئے۔ شہید ایئر ہوسٹس کے والد کے مطابق ان کی 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن میں سے انم خان سب سے بڑی بیٹی تھی، اور سب سے زیادہ خیال رکھنے والی تھی۔